منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ 2 ارب کے ڈیفالٹر ، الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت کیوں دی گئی ، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 15  مارچ‬‮  2021 |

پشاور ( آن لائن) پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں اداروں کی مداخلت نظر آرہی ہے،نیب دیگر اداروں کا ترجمان بن کر ہمارے مؤقف کی تصدیق کررہا ہے،اب عدالتیں آخری امید بن چکی ہیں،لانگ مارچ ایک دن کا نہیں ہوگا استعفوں کے آپشن پر غور کر رہے ہیں ۔ صوبائی سیکرٹریٹ مفتی محمود

مرکز پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو دھمکیاں دی جارہی ہیں،اور ان کی ضمانت منسوخ کرانے کے لیے نیب نے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے، کیا نیب اداروں کا ترجمان ہے؟ نیب دیگر اداروں کا ترجمان بن کر ہمارے مؤقف کی تصدیق کررہا ہے،اب عدالتیں آخری امید بن چکی ہیں۔انہو ںنے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں اداروں کی مداخلت نظر آرہی ہے، چیئرمین سینیٹ کا الیکشن کو انجینیئرڈ تھا، ہمارے جائز ووٹوں کو کیوں مسترد کیا گیا؟ اور ووٹ مسترد ہونے کا ملبہ بھی عدالتوں پر ڈال دیا گیا ہے،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ 2 ارب روپے کے ڈیفالٹر کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت کیوں دی گئی؟ وفاداریاں کیوں تبدیل ہورہی ہیں،اس کے پیچھے دباؤ ہوگا،لالچ یا دھمکیاں ہوں گی، ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن کے دوران سارے ادارے اندھے ہو چکے تھے۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ ماضی میں مختلف جماعتوں کے اراکین نیاپنے ووٹ کوغلط استعمال کیا، کسی ایک ممبر کے دغا سے پارٹیوں کی پوزیشن تبدیل نہیں ہوا کرتیں، اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں، کل پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوگا، جس میں لانگ مارچ سے متعلق حتمی حکمت عملی طے ہوگی، پارلیمنٹ سے استعفے نہیں دیتے تولانگ مارچ کی زیادہ افادیت نہیں ہوگی، پی ڈی ایم کرے گا، لانگ مارچ ایک دن کا نہیں ہوگا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…