جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

حقیقت میں عمران خان بازی ہار چکے، ان کیلئے اب مزید اقتدار کیساتھ چمٹا رہنا قوم کیلئے مزید خرابیوں کا باعث بنے گا،تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 6  مارچ‬‮  2021 |

سکھر(آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہے کہ بکے ہوئے لوگوں کے ووٹوں کیساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے پر اب عمران خان صاحب کی کیا اخلاقی حیثیت باقی رہ گئی ہے، حقیقت میں عمران خان اس وقت بازی ہار چکے ہیں، انکے لئے اب مذید اقتدار کیساتھ چمٹا رھنا ملت کیلئے مذید خرابیوں کا

باعث بنے گا،یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز دارلعلوم تفہیم القران سکھر کی تقریب تکمیل بخاری و دستار فضیلت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان سابق رکن قومی اسمبلی اسدا للہ بھٹو بھی انکے ہمراہ تھے انہوں نے کہا کہ ، وزیر اعظم کیجانب سے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کیا جانے کی بابت سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے مذید کہا کہ صدر پاکستان نے جو احکامات جاری کیئے اس میں انہوں نے ڈکلیئر کیا کہ عمران خان صاحب اعتماد کھو چکے ھیں، انکے پاس اکثریت نہیں ھے، اب عمران خان صاحب نے قومی اسمبلی کے ایک اجلاس کے زریعے اکثریت حاصل کر لی تاھم انہوں نے قوم سے خطاب میں خود کہا ھے کہ 16 ممبران بک گئے ھیں انکی قیمت لگ چکی ھے، عمران خان صاحب کی کیا اخلاقی حیثیت اب باقی ھے ان ھی لوگوں کے ووٹ کیساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے، حقیقت میں عمران خان صاحب اس وقت بازی ہار چکے ھیں،لیاقت بلوچ نے کہا کہ ھم سمجھتے ھیں کہ پاکستان میں سیاست کو اب آئین کے تابع کیا جائے، آئندہ انتخابات کو شفاف و غیر جانبدارانہ بنایا جائے، سیاسی اور جمہوری قوتیں صرف اقتدار اور کرسی کی خاطر نہ اسٹیبلشمنٹ کی دھلیز پر جھکیں نہ ووٹ چوری کریں اور نہ ووٹوں کی قیمت لگائیں، جمہوریت اور ووٹ کی مقدس

قدروں کے تحفظ کیلئے سیاسی قوتیں جمہوری رویہ اختیار کریں، لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ ، پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کے حوالے سے سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ پی ڈی ایم کا معاملہ ھے کہ وہ کیا فیصلے کرتے ہیں لانگ مارچ کس طرح سے کرتے ھیں. انکی جدوجہد کیسے آگے بڑھے اسکے لئے وہ خود جوابدہ ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…