منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان نے کرم ایجنسی اور ڈسکہ میں الیکشن نتائج ماننے سے انکار کر دیا

datetime 26  فروری‬‮  2021 |

پشاور( آن لائن)پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے انتخابی حلقے کرم ایجنسی اور ڈسکہ میں دھاندلی کے ذریعے نتائج تبدیل کیے گئے جو کسی قیمت پر قابل قبول نہیں، ایسے کوئی شواہد نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے، 2018 الیکشن کے بارے میں جو موقف ہے اس پر قائم ہیں۔پشاور میں میڈیا

سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نتائج روکے ہوئے ہیں اور اس پر انہیں حقیقت پسندانہ انداز کے ساتھ اپنا فیصلہ صادر کرنا چاہیے اور اس الیکشن کو منسوخ کردینا چاہیے الیکشن سے قبل ہی کرم ایجنسی میں 600 جعلی ووٹ پوسٹل ووٹ پکڑے گئے اور وہ ثابت ہوچکے ہیں، اس کے بعد پی ٹی آئی کے امیدوار کو نا اہل قرار دینے کے بجائے انہیں انتخاب میں حصہ لینے دیا گیا اور تیسرے نمبر پر آنے والے کو پہلے نمبر پر لایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ واضح طور پر دھاندلی ہوئی ہے اور موقع پر موجود پولنگ افسر یا تو اس میں ملوث ہیں یا بے بس، ہم انتخاب کے نتائج کو تسلیم نہیں کرسکتے الیکشن کمیشن نے نوٹس لینے کے بجائے ضمنی انتخاب کے نتائج روکے ہوئے ہیں، الیکشن کمیشن کو اپنا فیصلہ سنانا چاہیے، دھاندلی دھاندلی ہے جس سطح پر بھی ہو، الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ وہ دونوں حلقوں میں دوبارہ انتخاب کرائے۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں خفیہ ووٹنگ کے حوالے سے ججز کے ریمارکس میں آئین سے متعلق کہا گیا کہ آئین خاموش ہے، جس جگہ آئین خاموش ہو وہاں پارلیمنٹ تشریح کرتی ہے، عدالت کو خود کوفریق نہیں بنانا چاہیے، ایسے کوئی شواہد نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے، 2018 الیکشن کے بارے میں جو موقف ہے اس پر قائم ہیں، پی ڈی ایم کا انتخابی اتحاد کے

حوالے سے کہنا قبل ازوقت ہے، سینٹ الیکشن میں حکومت کے لئے سرپرائز یہی ہوگا کہ ہم کامیاب ہوں گے، سینٹ الیکشن کا اسلام آباد سے مارچ سے کوئی تعلق نہیں، طے شدہ فارمولے کے تحت 26 مارچ کو قافلے اسلام آباد کی طرف جائیں گے۔ انہوںنے مزید کہاکہ جنوبی وزیرستان میں قبائلی جنگ جاری ہے، خونریزی ہورہی ہے جس میں 5

افراد ہلاک ہوچکے ہیں قومی اسمبلی اور اس میں مزید اضافے کا خطرہ ہے وہاں موجود انتظامیہ یا تو بے بس ہے یا سمجھتی ہے کہ قبائل آپس میں لڑے تاکہ ہمیں جن علاقوں پر جنگ ہے اس پر قبضہ کرنے کا موقع مل سکے ۔ ایک سول کے جواب میں انہوںنے کہاکہ جمعیت علما اسلام (ف) فاٹا کے امیر کو ہدایت دوں گا کہ تمام قبائل کا جرگہ بلایا جائے اور مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں فاٹا کے انضمام کے بعد وہاں نہ کوئی پرانا قانون ہے اور نہ

کسی نئے قانون کی عمل داری، وہاں کے لوگ پریشان زندگی گزار رہے ہیں قبائل میں جب زمینوں کی تقسیم ہوگی تو گھر گھر پر لڑائی ہوں گی اور خونریزی ہوگی۔ وہاں کی خصوصی حیثیت کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک رٹ دائر کی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ آئین کے خلاف قدم اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پر باقاعدہ سماعت کا جلد آغاز کیا جانا چاہیے تاکہ اس مسئلے کا عدالتی حل سامنے آسکے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…