بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

رکھوالوں کے ہاتھوں قانون کھلونا، پولیس کو کڑاہی نہ کھلانا شہری کو مہنگا پڑ گیا

datetime 20  فروری‬‮  2021 |

بنوں ( این این آ ئی) پولیس کو کڑاہی نہ کھلانے پر شہری کو جیل کی ہوا کھانی پڑگئی ، ٹاون شپ پولیس نے شہری کے کھاتہ میں 54کلو چرس ڈال کر منشیات اسمگلر ظاہر کر دیا ممند خیل قبیلے کے نیک محمد نامی شخص کو سات روز تک حبس بے جا میں رکھنے کے بعد بھاری مقدار میں منشیات رکھنے کے جرم میں ایف آئی آر دے دی،

اقوام ممند خیل قبائل کے مشران کا شدید احتجاج ،ایف آئی آر کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا،مند خیل قبائل کے جرگہ مشران ملک حیات خان ،ملک رسول خان ،منیجر سیف اللہ، ملک اول نور ،گل شریف خان ،ملک جیلانی ،ناظم گل زمان ،اور ملک گل ولی خان نے احتجاجی جرگے اور بعدازاں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ فروری کو نیک محمد اپنے ہوٹل میں درجنوں ساتھیوں کے مابین موجود تھے کہ اس دوران ایس ایچ او ٹاون شپ یسین کمال پولیس موبائل وین سمیت ایک پرائیویٹ گاڑی میں آئے اور نیک محمد خان کیساتھ اکیلے میں کچھ باتیں کرتے ہوئے اُنہیں تھانے لیجانے کو کہا اور چھپا لیا جبکہ اپنی اس حرکت کو چھپانے کیلئے ہوٹل میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کا ریسور بھی اپنے ساتھ لے گئے مسلسل 6دن تک ہم تھانے کا چکر لگا کر اُن کا جرم پوچھتے رہے مگر ایس ایچ او و دیگر پولیس عملہ حیلے بہانے کر کے اُن کی رہائی میں تاخیر کر رہے تھے تاہم 17 فروری کو ہمیں پتہ چلا کہ نیک محمد خان کے خلاف 54کلو چرس رکھنے کے جرم پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اور پولیس نے اُنہیں علاقہ پنک سے ایک نامعلوم گاڑی میں چرس لاتے ہوئے ظاہر کیا ہے حالانکہ نیک محمد کو اُن کے ہوٹل سے درجنوں افراد کے سامنے سے اُ ٹھا کر تھانے لے جایا گیا انہوں نے کہا کہ ہم نے جب نیک محمد کو

بغیر کسی گناہ کے گرفتار ی کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ایس ایچ او یسین کمال ہوٹل سے مفت کھانا نہ دینے پر ناراض تھے اس لئے اُنہیں پھنسانے کی کوشش کی ہے انہوں نے کہا کہ ہم کاروباری خاندان ہیں منشیات جیسے لعنتی کاروبار میں ہر گز ملوث نہیں اس واقعے سے ہماری عزت نفس مجروح ہوئی ہے کیونکہ

پولیس انتہائی گھنائونی حرکت کرکے ہم پر منشیات کا الزام تھوپا ہے اگر کوئی ثابت کرے تو ہم بخوشی جرم کی سزا بھگتے کیلئے تیار ہونگے لیکن پولیس کی طرف سے ایسے حرکات ظلم اور زیادتی ہے انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ،آئی جی خیبر پختونخوا سمیت ڈی آئی جی بنوں اور ڈی پی او بنوں سے

مطالبہ کیا ہے کہ وہ انکے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی منصفانہ طور پر تحقیقات کرائے اور نیک محمد خان پر درج کئے جانے والے جعلی مقدمے کو ختم کر کے اس میں ملوث تمام کرداروں کو قرار واقعی سزا دے بصورت دیگر اقوام ممند خیل کے تمام قبائل پولیس کے ظالمانہ رویے کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے اس دوران کسی بھی نقصان کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہو گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…