پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کے ایک معتمد خاص نے رابطہ کرکے فارن فنڈنگ کیس سے دستبردار ہو نے کی پیشکش کی، اکبر ایس بابرکے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 14  فروری‬‮  2021 |

صوابی (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اور پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنر اکبر ایس بابر نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم کے ایک معتمد خاص نے رابطہ کرکے پیشکش کی ہے کہ وہ فارن فنڈنگ کیس سے دستبردار ہو جائیں جس کے بدلے انہیں ان کی پسند کا کوئی بھی حکومتی یا پارٹی کا عہدہ دینے کے لیے تیار

ہیں۔ یہ انکشاف انہوں نے اتوار کو ٹوپی، صوابی میں پاکستان تحریک انصاف کے نظریاتی رہنماؤں اور کارکنان کے پہلے مشاورتی اجلاس سے خطاب میں کیا۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ چند ہفتے قبل وزیراعظم عمران خان کے ایک انتہائی قریب شخص نے انہیں ٹیلی فون کیا اور سات منٹ تک گفتگو کی جس میں وزیراعظم کی طرف سے انہیں یہ پیشکش پہنچائی گئی کہ اگر وہ فارن فنڈنگ کیس واپس لے لیں تو بدلے میں انہیں چیئرمین سینیٹ بھی بنایا جاسکتا ہے یا ان کی پسند کا کوئی بھی حکومتی یا پارٹی عہدہ انہیں دینے کے لیے تیار ہیں۔ اکبر نے کہا کہ انہوں نے یہ پیشکش مسترد کردی اور یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے کسی ذاتی مفاد یا حکومتی یا پارٹی کے عہدے کے لیے میدان میں نہیں نکلے۔ ان کا مقصد پارٹی کا نظریاتی قبلہ درست کرنا اور اسے چوروں سے پاک کرکے پارٹی کے حقیقی اور نظریاتی منشور کو رائج کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ تحریک انصاف نہیں جس کی بنیاد ہم نے رکھی تھی اور جس کا مقصد ملک میں حقیقی تبدیلی لا کر عوام کی توقعات کو پورا کرنا تھا۔ ہمارا مقصد یہ تھا کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، معاشی و دیگر مسائل اور ظلم و استحصال سے نجات دلائیں، ملک میں انصاف کا بول بالا ہو، عوام کو لوٹ مار، کرپشن، بدعنوانی، بد انتظامی اور ناانصافی سے نجات دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج تحریک انصاف

نااہلی، نالائقی، بدعنوانی اور پیسے کے بدلے حکومتی اور پارٹی عہدے بیچنے والی جماعت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی صرف تحریک انصاف کے رہنماؤں کے بینک اکاؤنٹس میں آئی ہے جبکہ ملک اور عوام کو صرف تباہی ملی ہے۔ سینٹ کے ٹکٹ کروڑوں روپے میں ان لوگوں کو بیچے جا رہے ہیں جن کا پارٹی اور اس کے نظریے

سے کوئی تعلق نہیں۔ تحریک انصاف سرمایہ داروں کی جماعت بن چکی ہے جس نے اپنا نظریہ چند ٹکوں کی خاطر بیچ دیا ہے۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ تحریک انصاف نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم میرٹ پر چلیں گے، باصلاحیت، ایماندار اور قابل لوگوں کو آگے لائیں گے لیکن جن لوگوں کو عمران خان نے اہم عہدے دیے، وہ کریانہ سٹور

چلانے کے قابل نہیں۔ عمران خان نے جس طرح آئینی عہدوں کو بے توقیرکیا، ایسی سنگین مثال پہلے نہیں ملتی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے عمران خان کے ماتحت پی ٹی آئی کی حکومت کو حالیہ دور کی کرپٹ ترین حکومت قرار دیا ہے جس کے بعد عمران خان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہئے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ

آنے کے بعد عمران خان اور ان کی حکومت کا اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا کیونکہ جو پارٹی معاشرے سے کرپشن ختم کرنے نکلی تھی، وہ سب سے زیادہ خود کرپٹ نکلی۔ تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنوں کے مشاورتی اجلاس نے کھلی کچہری کی شکل اختیار کر لی جس میں پارٹی کے نظریاتی رہنما اور

کارکنان وزیراعظم عمران خان، پارٹی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے خلاف پھٹ پڑے اور شکایات کے انبار لگا دیئے اور پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت خاص طور پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف کرپشن، اقربا پروری اور ناانصافیوں کی داستانیں بیان کرنا شروع کر دیں۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ملک

بھر میں پارٹی کے نظریاتی رہنماؤں اور کارکنان سے رابطہ کیا جائے اور ملک گیر تحریک شروع کی جائے اور پارٹی کی قیادت نظریاتی و بانی رہنما اور کارکنان سنبھالیں۔ اس وقت پر پی ٹی آئی آئی کے نظریاتی رہنما محمود خان، ضلع صوابی کے سابق جنرل سیکرٹری یوسف علی، سابق تحصیل ناظم ٹوپی یونس خان، سبیر خان، عزیز خان ایڈووکیٹ اور عارف شاہ نے خطاب کیا۔ قبل ازیں اکبر بابر جب صوابی پہنچے تو صوابی انٹرچینج سے ایک جلوس کی شکل میں انہیں اجلاس کے مقام تک لایا گیا اور بھرپور استقبال کیا گیا۔اس موقع پر اکبر بابر نے پشتو اور اردو دونوں زبانوں میں خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…