بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ کا بے قصور وکلاء کے گھروں پر پولیس چھاپوں پر اظہار برہمی، پتہ کریں کون گیم کھیل رہا ہے؟ عدالت کسی کو گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دیگی،جسٹس اطہر من اللہ کا حکم

datetime 12  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آبادہائیکورٹ نے چیف جسٹس بلاک پر حملے کے بعد بے قصور وکلاء کے گھروں پر پولیس چھاپوں کا سلسلہ شروع ہونے پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی اسلام آباد سے ہفتہ تک جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیگناہ وکلاء کو ہراساں کرنیوالوں کیخلاف کارروائی چاہئے،پتہ کریں

کون گیم کھیل رہا ہے؟، یہ عدالت کسی کو کوئی گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دیگی۔جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سینئر وکیل نذیر جواد کی درخواست پر سماعت کی تو درخواست گزار وکیل نے بتایا کہ وہ احتجاج یا حملے میں شامل نہیں تھے، اس کے باوجودپولیس نے گزشتہ رات ان کے آفس پر چھاپہ مارا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے تو اس کنڈکٹ کی مذمت کی اور عدالتوں میں بھی پیش ہو رہا ہوں۔سماعت کے دوران دو گھنٹے کے عدالتی نوٹس پر ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات اور ایس ایس پی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایس ایس پی سے استفسار کیا کہ کون پروفیشنل اور بیگناہ وکلاء کو ہراساں کررہے ہیں؟ مجھے ان کے خلاف کارروائی چاہیے، پتہ کریں کون گیم کھیل رہا ہے، یہ عدالت کسی کو کوئی گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کیا اس معاملے پر کوئی گیم کھیل رہا ہے؟ اصل مجرمان کے بجائے آپ بے گناہوں کو ہراساں کررہے ہیں، جو حملے میں ملوث ہیں ان کو آپ پکڑ نہیں سکتے، بیگناہ وکلاء کو کسی صورت ہراساں نہ کیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر انکوائری بٹھائیں اور پتہ کریں کہ کس نے ایسا کیا اور کیوں کیا؟ اس ملک میں رول آف لاء نہیں ہوگا تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔انہوں نے حکم دیا کہ  ہفتہ تک تک انکوائری کرکے عدالت کو رپورٹ پیش کی جائے،5 فیصد لوگ اس واقعے میں ملوث تھے جو سب کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ جو بھی اصل ملزمان کو بچانا چاہتے ہیں آپ اس عدالت کو بتائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…