بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی کی قیمت میں دوسری مرتبہ پھر اضافہ سے عوام پر 84 ارب کا بوجھ پڑنے کا امکان

datetime 11  فروری‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ تاہم اضافے کی حتمی منظوری وزیراعظم عمران خان دیں گے۔ گزشتہ ایک ہفتے میں بجلی کی قیمتوں میں دوسری مرتبہ کیا جانے والا اضافہ سالانہ بنیادوں پر کیا گیا ہے۔ بجلی کے فی یونٹ قیمت میں 83 پیسے اضافے

کے بعد بجلی کے صارفین 84 ارب روپے کا مزید اضافی بوجھ پڑے گا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بجلی کی قیمت میں 83 پیسے فی یونٹ اضافہ سال 2019-20ء کی ایڈجسٹمنٹ مد میں کیا گیا۔ یہ اضافہ بجلی کے صارفین سے سماہی بنیادوں پر موصول کیا جائے گا۔ جس کا اطلاق کے الیکٹرک پر نہیں ہوگا۔دوسری جانب چیئرمین ٹائون شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن لاہور محمد وسیم چاولہ نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا ) کی جانب سے بجلی کی فی یونٹ قیمتوں میں 1.95روپے اضافہ کے فوری بعد فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ بجلی کی قیمتوں میں1.53روپے اضافہ کے ساتھ ساتھ سوئی گیس 13.42روپے فی ایم ایم بی ٹی یونٹ مہنگی کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صنعتی شعبہ متاثر ہوگا ،بجلی گیس مہنگی ہونے سے صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں اضافہ سے اشیاء مہنگی ہونے سے بیرون ملک پاکستانی اشیاء کی مانگ میں کمی ہونے سے برآمدات کاتسلسل متاثر ہوگا اوراشیاء مہنگی ہونے سے ملک میں ہوشربا مہنگائی برپا ہوگی جس سے ہر طبقہ فکر خاص کرصنعتی شعبہ متاثر ہوگا ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے سینئر وائس چیئرمین مسعود نظامی ، وائس چیئرمین محمد عدیل بھٹہ کے ساتھ ٹائون شپ انڈسٹریز کے صنعتکاروں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وسیم

چاولہ نے کہا کہ بجلی گیس، پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرکے ہر ماہ منی بجٹ پیش کیا جارہا ہے جو ناقابل قبول اور صنعتی شعبہ کے لیے زہر قاتل ہے صر ف فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرکے عوام پر 10ارب روپے کا بوجھ ڈالا گیا ۔انہوں نے کہا کہ فیول ایڈجسٹمنٹ فارمولہ ختم کیا جائے کیونکہ صنعتی شعبہ سے اس مد میں بجلی استعمال کے بعد کثیرر قم بجلی بلوں میں وصول کرلی جاتی ہے لیکن صنعتی شعبہ بعض از فروخت مصنوعات مارکیٹ سے یہ قیمت وصول نہیں کرسکتے حکومت اس کی ادائیگی کا بندوبست کرے یا پھر یہ ظالمانہ فارمولہ ختم کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…