جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

بوسنیا میں سربیا کے وزیر اعظم پر پتھروں اور جوتوں کی بارش

datetime 12  جولائی  2015 |

سریبرینیکا(نیوزڈیسک) بوسنیا میں سرب افواج کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام کو 20 سال مکمل ہونے کے بعد دعائیہ تقریب میں شریک سربیا کے وزیراعظم پر مشتعل افراد نے پتھروں اور جوتوں کی بارش کردی۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سربیا کے وزیراعظم الیگزینڈر ووسک بوسنیا کے شہر سریبرینیکا میں سرب افواج کے ہاتھوں مسلمان شہریوں کے قتل عام کے 20 سال مکمل ہونے کے موقع پر دعائیہ تقریب میں شریک تھے کہ اچانک تقریب میں شریک لواحقین سرب وزیراعظم کو دیکھ کر مشتعل ہوگئے اور نعرے لگانا شروع کردیئے اور اس دوران مشتعل افراد نے سربین وزیراعظم کی طرف پتھر ،جوتےاور بوتلیں پھینکنا شروع کردیں جس کے بعد وہ فوری طور پر سخت سیکیورٹی کے حصار میں وہاں سے روانہ ہوگئے۔ سربیا کے حکام کا کہنا ہے کہ پتھراؤ سے الیگزینڈر ووسک سر پر چوٹ آئی اور ان کا چشمہ بھی ٹوٹ گیا۔
1995 میں سرب افواج نے بوسنیا کے شہر سریبرینیکا میں5 دنوں کے دوران 8 ہزار سے زائد مسلمان مردوں ،عورتوں اور بچوں کو قتل کرکے ان کی لاشوں کو بے شمار چھوٹی چھوٹی قبروں میں دفنا دیا تھا اور سرب افواج کی درندگی کے یہ ثبوت آج بھی اجتماعی قبروں کی صورت میں دریافت ہورہے ہیں جب کہ حال ہی میں اس واقعے میں ہلاک ہونے والے 136 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جن کی تدفین کردی گئی۔اقوام متحدہ کی ایک عدالت نے اس قتل عام کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دیا تھا اور اسے یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد کا سب سے خونریز واقعہ تصور کیا جاتا ہے جب کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جس میں سریبرینیکا قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دینے کی سفارش کی گئی تھی تاہم روس نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔اسی تناظر میں اس مرتبہ سربیا کے وزیراعظم ان تقریبات میں شرکت کے لیے بوسنیا پہنچے تھے۔ مبصرین کے مطابق سربیا کی حکومت یورپی یونین کی رکنیت کے حصول کے لیے کوشاں ہے اور یورپی یونین میں شمولیت کی ایک شرط علاقائی مفاہمت بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سربیا کے وزیراعظم پہلی مرتبہ اس واقعے کی یادگاری تقریب میں شریک ہوئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…