ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کو ہوش آہی گیا آٹے کا بحران حل کرنے کیلئے بڑا فیصلہ کرلیا

datetime 11  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے آٹے کا بحران حل کرنے کیلئے چار لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روزنامہ جنگ میں حنیف خالد کی شائع خبر کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان چار لاکھ ٹن گندم درآمد کرے گی،

گندم کی درآمد پر عائد تمام ٹیکس اور ڈیوٹیاں ختم کر دی گئی ہیں ،یہ گندم فلور ملیں 70,30 کے تناسب سے آٹا بناکر مارکیٹ میں مہیا کریں گی۔ حکومت یومیہ 38 ہزار ٹن گندم چاروں صوبوں کو دیا کریگی ،پنجاب کو 25 ہزار ٹن یومیہ گندم دے گی، سندھ کو 8 ہزار یومیہ گندم دے گی، خیبرپختونخوا کو 4 ہزار ٹن، بلوچستان کو ایک ہزار ٹن یومیہ گندم فراہم کریگی۔ وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے نوٹیفکیشن نمبر2019/3-1/ڈی ایف ایس سی۔II /ویٹ امپورٹ کے مطابق 2020-21 کی گندم حکومت 1650 روپے فی چالیس کلو گرام خریدے گی۔ موجودہ سال کیلئے حکومت فلور ملوں کو 1475 روپے فی چالیس کلو گرام سرکاری گوداموں سے گندم جاری کریگی۔دریں اثنا ای سی سی نے حکومت سندھ کی طرح دو ہزار روپے فی چالیس کلو گرام گندم نئی فصل سے نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے اور نہ ہی کسان سے 1650 روپے کی بجائے 1800روپے فی چالیس کلو گرام گندم خریدنے کی منظوری دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…