ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پٹرول پر41 روپے،ڈیزل پر 42 روپے فی لٹر ٹیکس وصولی سے پی ٹی آئی حکومت کا خزانہ بھرگیا، گزشتہ سال کا اپنا ہی ریکارڈ توڑدیا

datetime 6  فروری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)حکومت نے گزشتہ سال کا اپنا ہی ریکارڈ توڑتے ہوئے رواں سال کے پہلے نصف حصے میں اب تک کی سب سے زیادہ 275 ارب 32 کروڑ روپے کی پٹرولیم لیوی جمع کی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے جولائی تا دسمبر 2020 کے جاری

کردہ مالی اعدادوشمار سے ظاہر ہوا ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں پٹرولیم لیوی کی وصولی مالی سال2019 میں اسی عرصے میں جمع کیے گئے 137 ارب 95 کروڑ روپے سے تقریباً 100 فیصد زیادہ ہے۔یہاں تک کہ گزشتہ سال کا پٹرولیم لیوی بھی اپنے آپ میں ایک ریکارڈ تھا جو مالی سال 2018 کی پہلی ششماہی سے 68 فیصد زیادہ تھا۔تاہم پی ٹی آئی کی حکومت کے پہلے حصے جولائی تا دسمبر 2018، میں81 ارب 91 کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے تھے مسلم لیگ (ن)کی حکومت میں (جولائی سے دسمبر 2017) کے دوران اکٹھا کیے گئے 93 ارب 84 کروڑ روپے سے 13 فیصد کم تھے۔اس طرح پٹرولیم لیوی فی لیٹر کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات پر وفاقی حکومت کی طرف سے عائد ٹیکسز کا سب سے بڑی ریونیو ہے۔حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں پی ایل اکٹھا کرنے کے لیے 450 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔تاہم گزشتہ چھ مہینوں میں 275 ارب روپے یا مجموعی طور پر ہدف کا 61 فیصد اکٹھا کرلینے

کے بعد حکومت کو اب پیٹرولیم لیوی کم کرنے پر غور کرسکتی ہے۔اس وقت حکومت پیٹرول پر 21.04 روپے فی لیٹر پی ایل، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 22.11 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل آئل پر 6.91 روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل پر 5.54 روپے فی لیٹر وصول کررہی ہے۔اسی طرح حکومت

پیٹرول پر مجموعی طور پر 41 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 42 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کررہی ہے۔گزشتہ کئی مہینوں سے حکومت جی ایس ٹی کے بجائے پیٹرولیم لیوی کے نرخوں پر تبادلہ خیال کررہی ہے کیونکہ لیوی وفاقی خزانے میں رہتی ہے جبکہ جی ایس ٹی تقسیم ہونے والا ٹیکس ہے اور اس کا 57 فیصد حصہ صوبوں کو ملتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…