جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی پارلیمنٹ میں پاکستان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کے الفاظ گونج اٹھے

datetime 5  فروری‬‮  2021 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک )بھارتی پارلیمنٹ میں پاکستان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کے الفاظ گونج اُٹھے۔بھارتی راجیہ سبھا (ایوان بالا) میں بھارتی سیاسی جماعت راشٹریہ جنتا دل کے ممبر ڈاکٹر منوج جھا نے کئی دنوں سے مظاہرے کرنے والے کسانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں آواز اُٹھائی۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنی تقریر کااختتام انقلابی شاعر

حبیب جالب کی مشہور نظم ” ایسے دستور کو صبح بے نور کو ، میں نہیں مانتا پر کیا ۔ واضح رہےکہ بھارت میں زرعی اصلاحات کے معاملے پر کسانوں کا احتجاج 5 ماہ سے جاری ہے اور ہزاروں کسانوں نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے مختلف علاقوں میں دھرنے دے رکھے ہیں جب کہ 26 جنوری کے روز کسانوں اور پولیس کے درمیان شدید تصادم بھی ہوا تھا، کسانوں کا دعویٰ ہے کہ 26 جنوری سے اب تک 100 سے زیادہ مظاہرین لاپتہ ہیں۔دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے کسانوں کی حمایت اور ان کے حق میں بیان پر بھارتی وزارت خارجہ بوکھلا گئی، ترجمان نے کہا کہ احتجاج واشنگٹن میں کیپٹل ہل پر بھی ہوا تھا، کسان رہنماوں نے کہا ہے کہ بھارت کو ایسے رویے پر انٹرنیشنل تنظیموں کی رکنیت چھوڑ دینی چاہیے۔بھارت کسان تحریک کی مسلسل عالمی حمایت پر تلملا اٹھا، امریکہ کی جانب سے بھارت کو ڈانٹ پلانے پر ٹرمپ دور کے احتجاج کا بہانہ تراش دیا۔ بھارتی کسان رہنما نے کہا کہ بھارت کو بین الاقوامی شخصیات کا کسان تحریک کی حمایت کرنا اگر اتنا برا لگتا ہے تو اسے انٹرنیشنل تنظیموں کی رکنیت چھوڑ دینی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی سرکاری نے کسانوں کو کھلی جیل میں بند کر رکھا ہے، ان کی خوارک، سپلائی اور انٹرنیٹ بند ہے۔بھارت کے سیاسی ماہرین نے کہا ہے کہ جمہوری ممالک میں ہونے والے احتجاج پر بین الاقوامی ردعمل آتا ہے، بھارت میں گلوکارہ ریحانہ اور ماحولیات کی کارکن گریٹا کےپوسٹرز نذر آتش کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔بھارتی ردعمل پر ماحولیات کی کارکن گریٹا تھنبرگ نے ایک بار پھر ٹویٹ میں کہا کہ وہ بھارتی کسانوں کی حمایت جاری رکھیں گی، نفرت اور دھمکیاں انہیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…