منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

اللہ تعالی کاخاص فضل پاکستان کا وہ شہر جو کرونا کا گڑھ تھاوہاں24گھنٹوں کے دوران جان لیوا وائرس سے کوئی ہلاکت نہ ہوئی

datetime 2  فروری‬‮  2021 |

لاہور، اسلام آباد (آن لائن، این این آئی ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے کئی روز بعد لاہور میں کرونا وائرس کا کوئی مریض نہیں مرا۔ جو لاہور کے عوام کے لئے ایک خوش آئند خبر ہے اور لاہور کے شہریوں پر بہت بڑا اللہ کا کرم ہے۔ بتایا گیا ہے

کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور میں کرونا کے مزید 248نئے کیسز سامنے آنے کے بعد شہر میں کرونا کے مجموعی مریضوں کی تعداد 79 ہزار 760 جبکہ اموات کی تعداد 1880 کی شرح پر جوں کی توں برقرار رہی۔دوسری جانب پاک فضائیہ کا خصوصی طیارہ چین کی جانب سے کووِڈ 19 ویکسین کی 5 لاکھ خوراک کا تحفہ لے کر بیجنگ سے وطن واپس پہنچ گیا۔نورخان ایئربیس پر ویکسین کی پہلی کھیپ پہنچنے کے وقت وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان موجود تھے۔اس حوالے سے انہوں نے ایک ٹوئٹ بھی کی جس میں لکھا کہ الحمد اللہ ہمیں سائنوفام ویکسین کا پہلا بیچ ملا ہے! اس کے لیے انتھک محنت کرنے والے ہر شخص کا شکر گزار ہوں۔انہوں نے لکھا کہ کووڈ کا مقابلہ کرنے میں این سی او سی اور صوبوں نے اہم کردار ادا کیا۔ میں اپنے فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز کو ان کی کاوشوں کے لئے سلام پیش کرتا ہوں، ویکسین سب سے پہلے انہیں لگے گی۔میڈیا رپورٹ کے

مطابق حکومت نے آئندہ 2 ہفتوں کے دوران 65 سال سے زائد عمر کے شہریوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔چین نے 5 لاکھ خوراک بطور عطیہ پاکستان کو دی ہیں جس سے فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز کو ویکسینیٹ کیا جائے گا، اب تک 4 لاکھ

طبی ماہرین ویکسینیشن کے لیے اپلائی کرچکے ہیں۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا کہ آئندہ 10 سے 15 روز میں 65 سال سے معمر شہریوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ویکسین کی تمام خوراک اسلام آباد میں رکھی جائیں گی اور امکان

ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ویکسینیشن کا عمل پورے ملک سے ایک روز پہلے شروع ہوجائے۔وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ویکسین کو ٹھنڈک میں رکھنے کیلئے انتظامات موجود ہیں جس میں اسے ہیلتھ ورکرز کو لگانے کیلئے گوداموں

میں اسٹور کیا جانا بھی شامل ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ ایکسپینڈڈ پروگرام امیونائزیشن (ای پی آئی) کے ایک گودام کو ویکسین رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، اس کے ساتھ ہم نے نیشنل امیونائزئشن منیجمنٹ سسٹم (این آئی ایم ایس) ترتیب دیا ہے جس کے ذریعے ہم اسلام آباد سے

ہر صوبے اور ضلع میں استعمال ہونے والی خوراک اور مزید درکار خوراک کی نگرانی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جب پہلا اسٹاک ختم ہو تو اس سے پہلے ہی نیا اسٹاک دستیاب ہو۔عہدیدار نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں کچھ سیاستدان اور بھارتی

ناقدین ویکسین کے حصول میں ناکامی کے لیے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے نہ صرف اپنے دوست چین سے ویکسی کی5 لاکھ خوراک مفت حاصل کی ہیں بلکہ پہلے سے بک کی گئیں 11 لاکھ خوراک بھی آئیں گی، کوویکس نے بھی ہمیں رواں برس

کے ابتدائی 6 ماہ میں آکسفورڈ زینیکا کی 17 لاکھ خوراک فراہم کرنے کی تحریری یقین دہانی کروائی ہے۔عہدیدار نے کہا کہ 17 لاکھ میں سے 70 لاکھ ویکسین خوراک مارچ کے اختتام سے قبل موصول ہوجائیں گی اور ہم پر امید ہیں کہ جون کے اختتام تک 65 سال سے معمر، 50 سے

65 سال تک کی عمر کے افراد اور ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگادی جائے گی۔دستیاب دستاویز کے مطابق پاکستان نے ویکسین کے حوالے سے اپنی حکمت عمل تشکیل دے دی ہے، شہریوں کی رجسٹریشن کا اعلان ہونے کے بعد لوگوں کو اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر ایس ایم ایس کے ذریعے

1166 پر بھیجنا ہوگا یا این آئی ایم ایس کی ویب سائٹ پر رجسٹر کروانا ہوگا۔تصدیق کے بعد شناختی کارڈ پر درج پتے کی بنیاد پر قریبی ویکسین سینٹر کا پتا اور پن کوڈ شہریوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہوگا۔ایس ایم ایس موصول ہونے کے 5 روز کے اندر شہری 1166 ہیلپ

لائن پر کال کر کے یا این آئی ایم ایس کی ویب سائٹ سے اپنا ویکسین کا مرکز تبدیل کرواسکتے ہیں، ویکسینیشن سینٹر اور اپائنٹمنٹ کی تاریخ بھی شہریوں کو بتادی جائے گی۔اپائنٹمنٹ والے روز شہریوں کو اپنا قومی شناختی کارڈ اور پن کوڈ لے کر ویکسین سینٹر پہنچنا ہوگا اور ویکسین لگنے کے بعد 30 منٹ تک سینٹر میں زیر نگرانی رہنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…