منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

’’وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ کوئی نیا کام کریں‘‘ بہت سے لوگ وزیراعظم کو آج شام ساڑھے سات بجے کے بعد کال ملاتے رہے حالانکہ یہ ۔۔۔ حامد میر نے عوام کی براہ راست فون کالز سننے پر اعتراض اٹھادیا

datetime 1  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر اینکر پرسن حامد میر نےوزیراعظم عمران خان کی ٹیلی فون کے ذریعے شکایات سننے پر عتراض اٹھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام نواز شریف نے شروع کیا تھا وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ کوئی نیا کام کریں ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سینئر صحافی نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’’بہت سے لوگ وزیراعظم کو

آج شام ساڑھے سات بجے کے بعد کال ملاتے رہے حالانکہ یہ کا لیں شام چار بجے کرنا تھیں۔ ان کا کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ٹیلی فون کالوں کا یہ پروگرام ریکارڈڈ تھا ٹیلی فون کا لیں سننے کی روایت نواز شریف نے ڈالی تھی عمران خان کو چاہئیے کہ کوئی نیا کام کریں اورعوام کی لائیو کال سنا کریں۔ واضح رہے کہ آج وزیر اعظم عمران خان نے عوام سے براہ راست گفتگو کی اور فون پر سوالوں کے جواب دیے، گھروں کے پروجیکٹ کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ گھروں سےمتعلق ہمارا ایک قانون پھنسا ہوا تھا جس میں تھوڑا وقت لگا، اب گھر بنانے کے لیے بینک قرضہ دے سکتے ہیں، بینکوں کے سربراہان سے خود ملا اور گھر بنانے سے متعلق اقدامات اٹھائے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے گھر بنانے کے لیے سبسڈی دی جائے گی، پہلے ایک لاکھ گھروں پر حکومت کی جانب سے 3 لاکھ سبسڈی دی جائے گی، آج کل بینکوں کی جانب سے اشتہارات دیے جا رہے ہیں، بینک خود کہہ رہے ہیں گھر بنانے کے لیے قرض لیں، ہمارے اس پروجیکٹ سے مزدور اور عام آدمی بھی اپنا گھر بنا سکے گا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا پوری دنیا میں کوئی بھی حکومت سارے غریبوں کوگھر بنا کر نہیں دے سکتی، ہم نے ایک سسٹم بنایا تھا جس کے تحت گھر تعمیر کرنے تھے، ہم نے بینکوں کے ذریعے غریبوں کے لیےگھر بنانے کی اسکیم رکھی۔انھوں نے کہا یورپ میں 80 فی صد لوگ بینکوں سے قرضہ لے کر گھر بناتے ہیں، ملائیشیا میں 30 فی صد اور بھارت میں 10 فی صد لوگ بینک قرض سےگھر بناتے ہیں، جب کہ پاکستان میں 0.25 فی صد لوگ بینک سے قرض لے کر گھر بناتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…