منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

یہ ہے پی ٹی آئی حکومت کا مثالی صوبہ خیبر پختونخوا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

datetime 31  جنوری‬‮  2021 |

پشاور(آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صوبائی سیکرٹری اطلاعات مہر سلطانہ ایڈووکیٹ نے انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ انسٹیٹیوٹ میں خالی آسامیوں کیلئے 30 ہزار سے زائد امیدواروں نے درخواستیں دی تھیں جس میں انٹرویو اور ٹیسٹ کیلئے کرائیٹیریا نہیں بنایا گیا تھا جبکہ انٹرویو کیلئے امیدواروں کو

بلایا تک نہیں جبکہ اس کے برعکس صوبائی وزراء اور ممبران صوبائی اسمبلی کے منظور نظر افراد کو ان سیٹوں پر لگایا گیا۔ اپنے ایک اخباری بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صوبائی سیکرٹری اطلاعات مہر سلطانہ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کرپشن ختم کرنے کے دعوے کر رہی ہے مگر اب خود اس کی مرتکب ہو رہی ہے وزراء اور ایم پی ایز کی جانب سے سکیل وائز سرکاری نوکریوں کے ریٹ لگائے جاتے ہیں جس سے نوجوانوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا جو وعدہ کیا تھا اس کے برعکس لوگوں سے روزگار چھینا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریاست مدینہ کی طرز پر حکمرانی کرنیکا کہا تھا مگر یہاں پر انصاف کے نام پر بننے والی حکومت نے نا امصافیوں کے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں اور مرٹ کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ مہر سلطانہ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ساڑھے سات سال ہو گئے ہر ادارہ تباہی کی طرف جا رہا ہے جبکہ نا اہل وزراء میں اس کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نسل نو لاکھوں روپے تعلیم پر خرچ کرلیتے ہیں جب نوکریوں کیلئے درخواستیں دے دیتے ہیں تو ٹیسٹ آؤٹ ہو جاتے ہیں یا ان کو نظر انداز کر کے منظور نظر افراد کو بھرتی کردیا جاتا ہے جس سے نوجوانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس سے سوموٹو ایکشن لینے اور منظور نظر افراد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اہل افراد کو بھرتی کیا جائے بصورت دیگر بھر پور احتجاج کیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…