منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

قانون موجود نہیں، یہ کام کیسے کیا کیا جارہا ہے حکومت کوشرم آنی چاہیے، عدالت شدید برہم

datetime 29  جنوری‬‮  2021 |

لاہور ( آن لا ئن )لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ بغیر قانون ای چالان کرنے پر حکومت کوشرم آنی چاہیے۔لاہور ہائی کورٹ نے گاڑیوں کے ای ٹکٹنگ چالان کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے سیف سٹی اتھارٹی سے ای چالان کرنے کا عدالتی حکم طلب کرلیا۔

جسٹس شمس محمود مرزا نے ریمارکس دیے کہ حکومت کوشرم آنی چاہیے، قانون موجود نہیں تو ای چالان کیسے کیے جارہے ہیں؟ قانون کے بغیر ہی لوگوں سے رقم وصول کی جارہی ہے، کس قانون کے تحت ای چالان کیے جارہے ہیں۔سرکاری وکیل نے عدالت میں اعتراف کیا کہ ابھی تک ای چالان سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں، ہم عدالتی حکم کے مطابق ای چالان کی مد میں پیسے وصول کررہے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ اسمبلی نیقانون پاس نہیں کیا تو کیسے وصولیاں ہوسکتی ہیں، آئندہ سماعت پر وہ عدالتی حکم دکھائیں جس کے تحت وصولی کررہے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…