منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

معروف عالم دین انتقال کر گئے

datetime 27  جنوری‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی) کراچی کی معروف قرآنی درسگاہ مدرسہ تحفیظ القرآن الکریم الفتحیہ گارڈن کے بانی ومہتمم قاری خدا بخش 72 برس کی عمر میں انتقال کرگئے، قاری صاحب کافی عرصہ سے امراض قلب میں مبتلاء تھے۔ وفاق المدارس کے میڈیا کوآرڈینیٹر مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق قاری خدا بخش مرحوم پاکستان میں فن قرأت وتجوید کے ممتاز ترین استادوں میں تھے، تقریبا نصف صدی سے

زائد قرآنی تعلیم سے منسلک تھے، آپ کے ہزاروں شاگرد اس وقت دنیا بھر میں موجود ہیں، ان شاگردوں میں معروف علماء کرام اور مدارس کے ذمہ داران بھی شامل ہیں، مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق آپ نے ستر کی دھائی سے تدریس قرآن کا آغاز برنس روڈ کراچی میں واقع ایک مکان سے کیا، اس کے بعد کراچی میں قدیم تبلیغی مرکز مکی مسجد میں سالوں استاد رہے، تقریبا پینتیس برس قبل گارڈن کے علاقہ آفیسرز کالونی میں جامع مسجد سے متصل شاندار تعلیمی مرکز قائم کیا اس ادارہ میں تین ہزار سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں، آپ کی زیر سرپرستی کئی تعلیم قرآن کے مراکز ہیں۔ قاری خدا بخش مرحوم کے سوگواران میں دو بیٹے ، چار بیٹیاں اور آپ کے تربیت یافتہ ہزاروں شاگرد ہیں۔ مولانا طلحہ رحمانی نے مزید بتایا کہ آپ روحانی سلسلہ کے شیخ بھی تھے، فن قرأت وتجوید کی بہت بڑی شخصیت قاری فتح محمد پانی پتی مرحوم کے شاگرد اور خلیفہ بھی تھے۔ قاری صاحب مرحوم کے انتقال پہ قائدین وفاق المدارس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا امداداللہ یوسف زئی سمیت مسؤلین ومنتظمین نے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رحلت کو علمی حلقوں کی بہت بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج تحسین بھی پیش کیا اور تمام مدارس کو قاری صاحب مرحوم کیلئے دعاؤں کے اہتمام کی اپیل بھی کی۔ آپ کی نماز جنازہ جامع مسجد مدرسہ فتحیہ گارڈن میں ادا کی جائے گی اور تدفین ادارہ سے متصل احاطہ میں عمل میں لائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…