منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا مدارس کے طلبہ کو گرفتار کرنے کا فیصلہ

datetime 18  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)پی ڈی ایم کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے احتجاجی مظاہرہ میں مولانا فضل الرحمن کے مدارس کے طلبہ کی ممکنہ شرکت کے پیش نظر جڑوں شہروں میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،گلی محلہ کے مدارس اور دور دراز سے آنے والے طلبہ کو اسلام آباد آنے سے قبل ہی گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا

گیا،ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پی ڈی ایم کے الیکشن کمیشن کے سامنے آج کے احتجاج کے پیش نظرمعلومات اکٹھی کرنا شروع کر د ی ہے اور وزارت داخلہ کی ہدایت پر مولانا فضل الرحمن کے مدارس سے آنے والے طلبہ کو کسی صورت بھی اسلام آباد نہیں آنے دیا جائے گا،بھارہ کہو،سوہان،کراچی کمپنی،فیض آباد،راجہ بازار،کھنہ،ترامڑی و دیگر گردونواح میں گلی محلوں میں قائم مدارس کی نگرانی شروع کر دی گئی ہے اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر سیاسی مظاہرہ میں طلبہ کو استعمال کیا گیا تو وہ سخت ترین ایکشن لینے کے لیے تیار ہیں،وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تنبییہ کی ہے کہ مولانا سیاست میں طلبہ کو نہ لائیں بصورت دیگر قانون حرکت میں آئے گا۔ دوسری جانب ایوان بالا میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے براڈ شیٹ کے معاملے پر پورے ایوان کی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ براڈ شیٹ معاہدے سے جڑے تمام شواہد ایوان میں پیش کئے جائیں تاکہ عوام کو سچ اورجھوٹ کا پتہ چل سکے اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے جی بی انتخابات کو پاکستان کے جنرل الیکشن کا پارٹ ٹو قرار دیتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر آزاد کشمیر می بھی یہی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقا د نہ کیا گیا تو عوام کا انتخابی عمل سے اعتماد اٹھ

جائے گا۔ اجلاس کے دوران وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاکہ حکومت اپوزیشن کو احتساب، انتخابی اصلاحات اور لینڈ ریفارم سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحات کی دعوت دیتی ہے ۔سوموار کے سینیٹ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے دور میں جب پورے ملک کو دہشت گردی نے اپنی لیبیٹ میں لے رکھا تھا اس وقت بھی پارٹی کے قائدین نے ملک میں مہنگائی نہیں آنے دی مگر آج نااہل اورناسمجھ حکومت کی وجہ سے ہر طرف مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…