اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

نئے آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کا عالمی مقابلوں میں نفاذ

datetime 10  جولائی  2015 |

دبئی(نیوز ڈیسک) آئی سی سی کا نیا کوڈ آف کنڈکٹ عالمی کرکٹ میں نافذ العمل ہوگیا، نئی پلیئنگ کنڈیشنز کے تحت امپائرز کو زیادہ اختیارات مل گئے، نان اسٹرائیک اینڈ پر ٹہلنے والے بیٹسمینوں کی بھی اب خیر نہیں ہوگی، شاٹ کھیلنے سے پہلے ہی وکٹ کیپر اور فیلڈرز کو اپنی جگہ چھوڑنے کی اجازت مل گئی۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے نئے ترمیم شدہ کوڈ آف کنڈکٹ کا عالمی سطح پر نفاذ ہوگیا، ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 کی پلیئنگ کنڈیشنز میں جو تبدیلیاں کی گئی تھیں ان کا بھی اطلاق ہوگیا ہے۔ بنگلہ دیش و جنوبی افریقہ اور زمبابوے و بھارت کے درمیان جمعے سے شروع ہونیوالی ون ڈے سیریز نئی کنڈیشنز کے تحت کھیلی جائینگی، اس میں بیٹنگ پاور پلے نہیں ہوگا جبکہ آخری دس اوورز میں 5 فیلڈرز کو سرکل سے باہر تعینات کرنے کی اجازت ہوگی۔اسی طرح ون ڈے میں اگر دوسری ٹیم بیٹنگ کررہی ہو اور میچ اپنے اختتام پر دکھائی دینے لگے، اتنے میں وقفے کا وقت آ جائے تو پھر کسی بھی سائیڈ کا کپتان امپائر سے بریک کو آگے بڑھانے کی درخواست کر سکتا ہے، اس پر کھیل 15 منٹ یا کم سے کم 4 اوورز تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اگر بریک لے لی مگر میچ اختتام کے قریب ہے تو پھر ریفری وقفے کا وقت کم کرسکتا ہے۔ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 میں ہر قسم کی نو بال پر فری ہٹ دی گئی ہے، اگر یہ بہت زیادہ فیلڈرز سرکل سے باہر ہونے پر دی گئی تو پھر فری ہٹ سے قبل فیلڈ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 تینوں فارمیٹ میں اب فیلڈرز اور وکٹ کیپر کو بیٹسمین کے شاٹ کھیلنے سے پہلے اپنی جگہ چھوڑنے کی اجازت دیدی گئی مگر وہ صرف بیٹسمین کے کھیلنے کا انداز دیکھ کر اپنی جگہ چھوڑ سکتے ہیں۔
تینوں ہی فارمیٹ میں بولر کو اجازت دے دی گئی کہ اگر وہ نان اسٹرائیک پر موجود بیٹسمین کو کریز سے باہر دیکھتے ہیں تو پھرگیند کیلئے اپنا بازو گھمانے سے پہلے بھی انھیں رن آوٹ کرسکتے ہیں۔امپائرز کو اختیار دیا گیا کہ وہ ایک اوور میں مقررہ تعداد سے زیادہ باونسرز کرنے، کمر سے اوپر فل ٹاس کرنے اور پچ کے ڈینجر ایریا میں دوڑنے والے بولر کیخلاف فوری رپورٹ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی میچ میں اسپائیڈر کیم استعمال ہورہا ہے تو امپائر یہ دیکھنے کیلئے گیند نے کیم یا اس سے منسلک تار کو چھوا یا نہیں تھرڈ امپائر کی مدد حاصل کرسکتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…