ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

اگر یہ کام ہوا تو عدلیہ ایگزیکٹو کی باندی بن جائے گی،ایسا نہیں ہونے دیں گے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اہم حکم جاری کر دیا

datetime 14  جنوری‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے سول جج ساہیوال اور اسسٹنٹ کمشنر کے تنازعہ سے متعلق کیس میں چیئرمین پیمرا، چیف سیکرٹری پنجاب سمیت دیگر حکام کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ حکومتیں چاہتی ہیں کہ عدلیہ اور ایگزیکٹو میں ہم آہنگی ہو،اگر ایسا ہوا تو

عدلیہ ایگزیکٹو کی باندی بن جائے گی اورہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے سول جج اور اسسٹنٹ کمشنر کے تنازعے سے متعلق مقامی وکیل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد آصف بھٹی نے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر افسران کی جانب سے جواب جمع کروایا تاہم فاضل عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ عدلیہ اور ایگزیکٹو میں ہم آہنگی ہو، جس دن ایسا ہوگیا کہ تو عدلیہ ایگزیکٹو کی باندی بن جائے گی، ہم جو یہاں بیٹھے ہیں ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ سرکاری وکیل آصف بھٹی نے جواب دیا افسران نے سول جج کے معاملے پر ہڑتال نہیں کی۔چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پھر میڈیامیں جو ہڑتال کی خبریں چلیں وہ کون لوگ تھے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ نادرا سے تصدیق کرکے رپورٹ دیں کہ احتجاج کرنے والے کون تھے اور بینرز اٹھانے والے ملازمین کی تصویریں پیش کی جائیں۔چیف جسٹس نے کہا عدلیہ کے بارے میں جو فقرہ لکھا گیا ہے کیا وہ درست ہے؟،کیا جواب میں جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں کیا وہ توہین عدالت کے زمرے میں

نہیں آتے؟۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ مشکل سا لفظ انہوں نے لکھ دیا کہ جج صاحب کو کون سا پتہ چلنا ہے،ان الفاظ کے کا معنی گھوڑے اور گاڑی کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مطلب انتظامیہ گھوڑا اور گاڑی اس کے پیچھے چلے، کیا یہ فقرہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا؟۔

چیف جسٹس نے قرار دیا کہ جو چینلز پر بیٹھ کر تبصرے کرتے ہیں ان کو اس قانون پتہ ہی نہیں ہوتا، تبصرہ کرنے والوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا اس نقطے پر اعلی عدلیہ کے فیصلے کون سے آئے ہیں۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے افسوس کا اظہار کیا کہ جو سیاسی لیڈر چاہتا ہے وہ انٹرویوز میں عدلیہ کے بارے میں جو چاہے کہہ دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…