ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے قومی خزانہ کو 200ارب کانقصان ہونے کا انکشاف

datetime 11  جنوری‬‮  2021 |

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان کے راستے سمگل شدھ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے قومی خزانہ کو 200ارب روپے نقصان ہونے کا انکشاف، اینٹی اسمگلنگ اور سیکورٹی اداروں نے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کے تدارک کے لئے کریک ڈائون کاآغاز کردیا۔ایف بی آر حکام کے مطابق بلوچستان کے راستے ملک بھرمیں سمگل کی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ سے

قومی خزانہ کوسالانہ 2ارب دالر یعنی 200ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے یہ منصوعات مختلف پیڑول پمپس پر فروخت کی جاتی ہیں جو کہ کسٹمز ایکٹ 1969کی خلاف وزری ہونے کے ساتھ ساتھ قابل سز اجرم ہے جس کی سزا 5تا 14سال قید بامشقت ہے حکا م کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق پیر سے سمگل شدھ پیٹرولیم مصنوعات کے خلاف کریک ڈائون کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کسٹمز، ایف سی، رینجرز، ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ آپریشن شروع کردیا کاروائی کے دوران سمگل شدھ پیڑولیم مصنوعات کی فروخت میںملوث پیڑول پمپس کے خلاف کاروائی اور برآمد شدھ مصنوعات،پیڑول پمپ، ٹینکر سمیت اسمگلرز کی جائیدادوں کو بحق سرکار ضبط کرلیا جائیگا اس حوالے سے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کردئیے گئے ہیں جن میں عوام کو اس کاروبار کو ترک کرنے کی تنبیح کی گئی ہے۔دوسری جانب بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں کریک ڈائون کے باعث تشویش کی لہر دوڑ پڑی ہے سیاسی ،قبائلی رہنمائوں اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیڑول مصنوعات کی ترسیل سے بلوچستان کے ہزاروں نوجوانوں کا روزگار وابستہ ہے جسکی بندش سے ہزاروں لوگ بے روزگار اور کئی گھرانے فاقہ کشی پر مجبور ہوجائیں گے انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس کاروبارکو بند کرنے سے گریز کرے یا پھر نوجوانوں کو متبادل روزگار فراہم کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…