منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سینیٹ ، وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا بل کثرت رائے سے منظور ،

datetime 9  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) سینیٹ نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا بل ترمیم کیساتھ کثرت رائے سے منظور جبکہ سینیٹ نے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کی سفارش کی ہے،اپوزیشن نے حکومتی رویے اوربل کیلئے مزید مہلت نہ دینے پراحتجاجاً علامتی واک آﺅٹ کیا۔جمعرات کو سینیٹ کااجلاس چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی کی صدارت میں ہوا ۔ بلدیاتی انتخابات سے متعلق بل وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے پیش کیا۔ بل کی منظوری کی تحریک کی حمایت میں 23 اورمخالفت میں 21 ووٹ آئے جس کے بعد چیئرمین سینیٹ رضاربانی نے بل کی منظوری دے دی۔ چیئرمین سینیٹ نے سفارش کی کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پرکرائے جائیں، قائمہ کمیٹی نے بل کی رپورٹ تیار کرنے میں اچھا خاصہ وقت لیا جب کہ بل پرکوئی اختلافی نوٹ نہیں آیا۔اس سے قبل چودھری نثار علی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کا بل 2015قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق منظور کیا جائے،سپریم کورٹ کی ٹائم لائن کو بھی مد نظر کھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تحفظات کے باوجود اپوزیشن کی بعض سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں،بل میں اپوزیشن کی کچھ تجاویز پرحکومت کو تحفظات تھے ،حکومت نے اتفاق رائے کےلئے ان کے تحفظات کو قبول کیا ۔چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی کی رولنگ کے بعدوفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے بل کی شق وار منظور ی کا عمل شروع کیا گیا جس کے بعد مقامی حکومتوں کے بل 2015کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ۔ بل کی حمایت میں 23جبکہ مخالفت میں21ووٹ پڑے ، بل میں 20سے زائد ترامیم کی گئی ہیں۔چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے بل کی منظوری کے حوالے سے اپنی رولنگ میں کہاکہ بل کو قائمہ کمیٹی نے متفقہ طورپر پاس کیا ہے سپریم کورٹ الیکشن شیڈول ختم کرچکی ہے کمیٹی نے بل کی رپورٹ تیار کرنے میں اچھاخاصا وقت لیاہے بل پر کوئی اختلافی نوٹ نہیں آیائمہ کمیٹی کی تجویز کے مطابق انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کی تجویز ہے انہوں نے کہاکہ قائمہ کمیٹی نے بل کی متفقہ طورپر منظوری دی استحقاق کمیٹی کے سامنے الیکشن کمیشن کا ایوان کو اعتماد میں نہ لینے کافیصلہ زیر غور ہے بل ایک سال سے زیادہ عرصہ قومی اسمبلی کے پاس رہا لہٰذا بل کی منظوری استحقاق کمیٹی کی کارروائی پراثراندازنہیں ہوتی۔ منظوری سے قبل اپوزیشن ارکان نے حکومت کے رویے اوربل کیلئے مزید مہلت نہ دیئے جانے کیخلاف احتجاجاً اجلاس سے علامتی واک آﺅٹ کیا تاہم حکومتی ا رکان اپوزیشن کو مناکر واپس لے آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…