بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

ن لیگ کی جانب سے اراکین اسمبلی کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ،تمام اراکین کے استعفے موصول نہ ہوئے ، باغی اراکین کیخلاف پارٹی قیادت نے بڑا فیصلہ کر لیا ‎

datetime 1  جنوری‬‮  2021 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی )ن لیگ کی جانب تما م اراکین قومی و صوبائی اراکین کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود تمام اراکین نے اپنے استعفے پارٹی قیادت کے پاس جمع نہیں کروائے ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ن لیگ کا ابھی تک تمام اراکین کے استعفے نہیں ملے ہیں ۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی کی تعداد 165 ہے جبکہ ن لیگ نے 5 باغی اراکین صوبائی اسمبلی کو

پارٹی سے نکالنے کی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 83 ہے، جن میں سے کچھ اراکین کے استعفے پارٹی کو موصول نہیں ہوئے ہیں۔دوسری جانب مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے سارے استعفے آ چکے ہیں، جن دو ممبران کا کہا جارہا ہے اگر قیادت انہیں حکم دے تو وہ استعفوں سے پیچھے ہٹیں،جو امیدیں لگائے ہوئے ہیں انہیں ناکامی ہو گی۔قبل ازیں جاتی امراء رائے ونڈ میں جے یو آئی (ف) کے امیر اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت سربراہی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مریم نواز، آفتاب خان شیرپاؤ،محمو دخان اچکزئی، میاں افتخار حسین، شاہ اویس نورانی،یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ، فرحت اللہ بابر،سینیٹر پروفیسر ساجد میر، احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، پرویز رشید،سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق،امیر حیدر خان ہوتی اورامیر مقام سمیت دیگر شریک ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف زرداری، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) کے سربراہ سردار اختر مینگل بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے شرکاء کو فنکشل لیگ کے سربراہ محمد علی درانی سے ہونے والی ملاقات اور اس میں زیر بحث آنے والی گفتگو کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور وفد نے پارٹی کی سی ای سی اجلاس میں ضمنی انتخابات کے حوالے سے سامنے آنے والی سفارشات بارے آگاہ کیا اور قانونی نکات پر بھی گفتگو کی۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی اپنا نقطہ نظر او رشفارشات پیش کی گئیں جبکہ اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کی قیادت او ررہنماؤں نے بھی اپنا اپنا نقطہ نظر اور تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلی غوروخوض کیا گیا اور اتفاق کیا گیا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے موجودہ حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا نا گزیر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…