جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے طرز سیاست پر مولانا فضل الرحمن آگ بگولہ مریم نواز سے ہونیوالی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

datetime 31  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی مرکزی قیادت کے درمیان سینیٹ انتخاب اور ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سمیت استعفوں کے معاملے پر اختلافات ابھی تک ختم نہیں ہو سکے بلکہ پیپلز پارٹی کے یکطرفہ فیصلوں پر ن لیگ نے اعتراضات اٹھا دیئے ہیں ۔

دوسری طرف پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں طرز سیاست پر شدید تنقید کی ہے اور دو ٹوک فیصلوں کے لئے پی ڈی ایم کا اہم اجلاس کل رائے ونڈ میں نواز شریف کی رہائش گاہ پر ہوگا جس کی صدارت مولانا فضل الرحمن کریں گے ،اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سمیت پی ڈی ایم کے دیگر سربراہ شرکت کریں گے اور اس میں فیصلہ ہوگا استعفے کب دینے ہیں اور سینیٹ کا الیکشن لڑنا ہے یا نہیں ۔دوسری طرف بدھ کی رات پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمن سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی سربراہی میں ملنے والے لیگی وفد کی ملاقات کی اندروانی کہانی سامنے آئی ہے ،ملاقات میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ،ملاقات میں نوازشریف اور مریم نواز نے پیپلز پارٹی کے یک طرفہ فیصلوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ بلاول نے خود میثاق پاکستان پر دستخط کیے اب فیصلوں سے

ہٹ رہے ہیں۔جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پیپلز پارٹی سے دو ٹوک بات ہوگی،تمام باتیں کھل کر کی جائیں گی اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جس نے اپنی الگ اینٹ کی مسجد بنانی ہے وہ پی ڈی ایم کا حصہ نہیں رہے گا۔مولانا نے مسلم لیگ فنکشنل

کے رہنما محمد علی درانی کی شہباز شریف سے ملاقات پر نواز شریف سے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف لڑ رہے ہیں آپ کے بھائی ان کے نمائندوں سے مل رہے ہیں،مولانا نے شاہد خاقان عباسی کے بیرون ملک جانے پر بھی اعتراض کیا

اور کہا کہ کس کی اجازت سے وہ بیرون ملک گئے جب طے ہے کہ حکومت سے مذاکرات نہیں ہونگے تو پھر بیک ڈور رابطے کیوں ہیں،جس پر نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات پر آپ پریشان نہ ہوں وہ وہی کرینگے جو پی ڈی ایم کا فیصلہ ہوگا،ملاقات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نے کہا کہ آصف زرداری کے بھی تو اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ہیں۔ملاقات کے دوران مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ الیکشن لڑنے کی حامی بھری ہے اور کہا کہ پی ڈی ایم متحد ہو کر سینیٹ الیکشن لڑے جس کے بعد استعفے پیش کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…