اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے طرز سیاست پر مولانا فضل الرحمن آگ بگولہ مریم نواز سے ہونیوالی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

datetime 31  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی مرکزی قیادت کے درمیان سینیٹ انتخاب اور ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سمیت استعفوں کے معاملے پر اختلافات ابھی تک ختم نہیں ہو سکے بلکہ پیپلز پارٹی کے یکطرفہ فیصلوں پر ن لیگ نے اعتراضات اٹھا دیئے ہیں ۔

دوسری طرف پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں طرز سیاست پر شدید تنقید کی ہے اور دو ٹوک فیصلوں کے لئے پی ڈی ایم کا اہم اجلاس کل رائے ونڈ میں نواز شریف کی رہائش گاہ پر ہوگا جس کی صدارت مولانا فضل الرحمن کریں گے ،اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سمیت پی ڈی ایم کے دیگر سربراہ شرکت کریں گے اور اس میں فیصلہ ہوگا استعفے کب دینے ہیں اور سینیٹ کا الیکشن لڑنا ہے یا نہیں ۔دوسری طرف بدھ کی رات پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمن سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی سربراہی میں ملنے والے لیگی وفد کی ملاقات کی اندروانی کہانی سامنے آئی ہے ،ملاقات میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ،ملاقات میں نوازشریف اور مریم نواز نے پیپلز پارٹی کے یک طرفہ فیصلوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ بلاول نے خود میثاق پاکستان پر دستخط کیے اب فیصلوں سے

ہٹ رہے ہیں۔جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں پیپلز پارٹی سے دو ٹوک بات ہوگی،تمام باتیں کھل کر کی جائیں گی اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جس نے اپنی الگ اینٹ کی مسجد بنانی ہے وہ پی ڈی ایم کا حصہ نہیں رہے گا۔مولانا نے مسلم لیگ فنکشنل

کے رہنما محمد علی درانی کی شہباز شریف سے ملاقات پر نواز شریف سے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف لڑ رہے ہیں آپ کے بھائی ان کے نمائندوں سے مل رہے ہیں،مولانا نے شاہد خاقان عباسی کے بیرون ملک جانے پر بھی اعتراض کیا

اور کہا کہ کس کی اجازت سے وہ بیرون ملک گئے جب طے ہے کہ حکومت سے مذاکرات نہیں ہونگے تو پھر بیک ڈور رابطے کیوں ہیں،جس پر نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات پر آپ پریشان نہ ہوں وہ وہی کرینگے جو پی ڈی ایم کا فیصلہ ہوگا،ملاقات کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نے کہا کہ آصف زرداری کے بھی تو اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ہیں۔ملاقات کے دوران مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ الیکشن لڑنے کی حامی بھری ہے اور کہا کہ پی ڈی ایم متحد ہو کر سینیٹ الیکشن لڑے جس کے بعد استعفے پیش کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…