بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

متنازعہ بیانات کے باوجود پی سی بی محمد عامر پر مہربان

datetime 29  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن )فاسٹ بولر محمد عامر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل نہیں تاہم پی سی بی حکام متنازع بیانات دینے اور ہیڈ کوچ مصباح الحق اور وقار یونس کیخلاف تنقید کرنے پر پیسر کیخلاف انضباطی کارروائی کا آپشن استعمال کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محمد عامر نے ڈومیسٹک کرکٹ میں وائٹ بال ٹورنامنٹ کھیلنے کیلئے پی سی بی کے ساتھ ڈومیسٹک معاہدے پر

دستخط کر رکھے ہیں اور اس معاہدے کے مطابق وہ پی سی بی، قومی ٹیم یا انتظامیہ کیخلاف بیان بازی نہیں کرسکتے ہیں ۔ایک اعلی پی سی بی افسر نے بھی تصدیق کی ہے کہ 28 سالہ فاسٹ بائولر فروری تک اس ڈومیسٹک معاہدے کے پابند ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے محمد عامر کو اب تک فری ہینڈ دیا ہوا ہے کیونکہ کرکٹ بورڈ ان کیخلاف کارروائی نہ کرکے کسی بھی تنازع سے بچنا چاہتا ہے ۔پی سی بی نے محمد عامر کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے انہیں مستقبل کی سیریز کے لیے منتخب نہ کرنے کا پیغام دیدیا ہے تاہم فاسٹ بائولر نے بدستور جارحانہ انداز اپنایا ہوا ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کو منطقی انجام کو پہنچائیں گے۔محمد عامر نے کہا کہ انکی لڑائی احسان مانی اور وسیم خان سے نہیں ہے ، موجودہ ٹیم مینجمنٹ کو اپنے اندر کا باس ختم کرنا ہوگا ، میرا جسم ٹیسٹ کرکٹ کا بوجھ نہیں اٹھا پارہا تھا لیکن الزام لگا دیا گیا کہ میں لیگ کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں ،لوگوں کے دماغ میں ڈال دیا گیا کہ میں ملک کی نمائندگی کرنے کی بجائے صرف پیسے کمانا چاہتا ہوں ۔ محمد عامر کا مزید کہنا تھا کہ کچھ سابق کرکٹرز انہیں 2010 میں میچ فکسنگ کا طعنہ دیتے ہیں حالانکہ انہوں نے اپنا جرم قبول کرلیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حارث روف بھی پی ایس ایل اور بی بی ایل میں پرفارم کرکے قومی ٹیم میں آیا، دنیا بھر کے کھلاڑی ٹی ٹونٹی لیگز میں پرفارم کرکے کم بیک کرتے ہیں۔ محمد عامر کا کہنا تھا کہ وہ سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اور قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کے ہمیشہ احسان مند رہیں گے ، جب ان کی قومی ٹیم میں واپسی کی باتیں ہورہی تھیں تو ساتھی کھلاڑیوں نے انکے ساتھ کھیلنے سے انکار کیا تاہم نجم سیٹھی اور شاہد آفریدی نے کہا عامر ضرور کھیلے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…