پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

عدالت نے پولیس کے اعلیٰ افسرکو مجرمانہ ذہنیت کا حامل قراردیدیا، کارروائی کا حکم

datetime 25  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) شہر قائد کی مقامی عدالت نے ایس ایس پی گلشن کو مجرمانہ ذہنیت کا حامل شخص قراردیتے ہوئے محکمانہ کارروائی کا حکم جاری کردیا۔ کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں 4پولیس اہلکاروں کے خلاف شہری سے لوٹ مار کیس کی سٹی کورٹ میں سماعت ہوئی۔عدالت نے پولیس اہلکاروں کے خلاف درج مقدمے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ایس پی گلشن کو مجرمانہ ذہنیت

کا حامل قرار دیا ۔جج نے ایس پی معروف عثمان کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کرکیقانونی کاروائی کا حکم دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایس پی نے ماتحت اہلکاروں پر شہری سے لوٹ مار کا جھوٹا مقدمہ کرایا تھا،پولیس نیشہری سے لوٹ مار کے معاملے میں کوئی گواہ پیش نہیں کیا۔عدالتی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ تفتیشی افسر نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل نہیں کی جبکہ تفتیشی افسر نے خود تحقیقات کے بجائے افسران بالاکے کہنے پر عدالت میں چالان پیش کیا،بادی النظر میں تفتیشی افسر افسران بالا کے دبا کے زیر اثر ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق تفتیشی افسر نے افسران بالا کے کہنے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور پولیس اہلکاروں کو ذاتی رنجش کی بنا پر نشانہ بنایا گیا کیونکہ ایس پی گلشن اور ایس ایچ او ملزمان سے تنگ تھے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بظاہر لگ رہا ہے ایس پی گلشن نے غیرقانونی احکامات پر نہ ماننے پر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا، ایس پی گلشن کیخلاف اختیارات کیناجائز استعمال پرمحکمانہ انکوائری اور کاروائی کی جائے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایس پی گلشن معروف عثمان مجرمانہ ذہنیت رکھتا ہے،ایسے افسر کی خدمات صوبے اور پولیس کے لئے مناسب نہیں ہیں۔جج نے حکم دیا کہ عدالتی فیصلے کی کاپی آئی جی سندھ، سیکریٹری داخلہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھیجی جائے اور افسر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…