ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

قیمتوں میں کمی کے دعوے جھوٹے نکلے، ایک بار پھر آٹا ، چینی کی قیمتیں بڑھ گئیں،  ایک انڈہ 34روپے کا فروخت ہونے لگا

datetime 25  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھراضافہ ریکارڈ کیاگیا۔وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کے حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق ملک میں گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران20 اشیاء ضروریہ مہنگی ہوگئیں

جبکہ چینی اور آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ،چینی اوسط 13 پیسے فی کلو مزید مہنگی ہو گئی اور چینی کی اوسط قیمت بڑھ کر 82 روپے 6 پیسے فی کلو ہوگئی جبکہ آٹے کا 20 کلو تھیلا 5 روپے 53 پیسے مہنگا ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ٹماٹر 8 روپے 29 پیسے فی کلوجبکہ انڈے فی درجن 6 روپے 26 پیسے مزید مہنگے ہوگئے۔ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 19 روپے 86 پیسے مہنگا ہوا۔ادارہ شماریات کی رپورٹ میں کہاہے گیا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران10اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی،آلو6 روپے 71 پیسے، پیاز3 روپے 95 پیسے فی کلو سستے ہوئے جبکہ مرغی بھی15 روپے68پیسے فی کلو سستی ہوگئی،گزشتہ ہفتے کے دوران دال مسور 3 روپے 3 پیسے فی کلو سستی ہوئی۔دوسری جانب گزشتہ ہفتے کے دوران21 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ جبکہ  مہنگائی نے شہریوں کی ناک میں دم کردیا، آئے روز اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پریشان ہوگئے، شہر میں فارمی انڈے فی درجن 202روپے، دیسی انڈے400 روپے فی درجن فروخت ہونے لگے۔تفصیلات کے مطابق شہر میں آئے روز اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پریشان ہوگئے،متعلقہ اداروں نے لولی پوپ دے کر عوام کو قیمتوں میں کمی کی یقین دہانی کرائی مگر سب دعوے جھوٹے نکلے،موسم سرما کے آغازپر برائلر گوشت اور فارمی انڈے مناسب قیمت پر دستیاب تھے مگر منافع خوروں نے قیمتوں میں 4 گنااضافہ کرکے عوام کی پہنچ سے ان کو بھی دور کردیا،اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی پیسوں کی شکل میں جبکہ اضافہ روپوں میں کیاجاتا ہے۔لاہور میں برائلر مرغی کے نرخوں میں 3 روپے کی کمی کی گئی جس سے فی کلو گوشت کی قیمت 284 سے 281 روپے ہوگئی ہے، فارمی انڈوں نے بھی نئے ریکارڈ قائم کرلئے ہیں فی درجن انڈوں کی قیمت 202 روپے ہو گئی جبکہ دیسی انڈے400 روپے پر فروخت ہورہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…