پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

خودکشی سے قبل ڈاکٹر ماہاعلی سے زیادتی کی گئی پورسٹ مارٹم رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات‎

datetime 24  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)کراچی میں ڈاکٹر ماہا مبینہ خودکشی کیس میں تفتیشی حکام نے ماہا کے ساتھ زیادتی کیے جانے کا خدشہ ظاہر کردیا، عدالت نے 5 جنوری تک ملزمان کے ڈی این اے کرا کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ ساوتھ کی عدالت نے ڈاکٹر ماہا شاہ

مبینہ خودکشی کیس کی سماعت کی جس میں تفتیشی حکام نے ماہا کے ساتھ زیادتی کا خدشہ ظاہر کیا اور ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کردی۔تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ مقتولہ کے ڈی این اے کے بعد ملزمان کا ڈی این اے کرنا ہے، تاہم ملزمان ڈی این اے کرانے کیلئے تعاون نہیں کر رہے ہیں لہذا عدالت سے درخواست ہے کہ وہ ملزمان کو کیس میں تعاون کرنے کا پابند بنائے، ملزم جنید اور وقاص ڈی این اے کیلئے تعاون نہیں کررہے ہیں۔عدالت میں تفتیشی افسر کاکہنا تھا کہ کیس میں ملزمان کا ڈی این اے کرانے کے بعد حتمی چالان جمع کرانا ہے، اس لیے عدالت سے استدعا ہے کہ ملزمان کے ڈی این اے کی رپورٹ تک مہلت دی جائے۔اس موقع پر عدالت نے پولیس کی استدعامنظور کرلی اور پولیس کو 5 جنوری تک ملزمان کے ڈی این اے کراکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔اسسٹنٹ پراسکیوٹر جنرل سندھ نے سماعت کے دوران عدالت میں کہا کہ ملزمان کیخلاف مقدمے میں زیادتی

کے سیکشن، رپورٹ کے بعد شامل کئے جائیں۔پولیس نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں متوفیہ کے ساتھ زیادتی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، ملزمان جنید اور وقاص ڈی این اے کیلئے تعاون نہیں کررہے ہیں۔واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہا نے چند ماہ قبل کراچی میں مبینہ طور پر

خود کو گولی مار کر خودکشی کی تھی، جبکہ ڈاکٹر ماہا کے والد کی درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے قبرکشائی کا حکم دیا تھا۔ڈاکٹر ماہا کے والد نے دائر درخواست میں بیٹی کے دوست ، ایک اسپتال کے ڈینٹسٹ اور ڈاکٹر کو نامزد کیا ہے اور ان افراد پر ماہا کو تشدد کا نشانہ بنانے، زخمی کرنے اور نشے کا عادی بنانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…