اسلام آباد (نیوزڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہاہے کہ نیب پگڑی اچھال ادارہ بن چکا ہے .بے بنیاد مقدمات بنانے پر نیب کا احتساب ہونا چاہیے .نیب اپنے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کر سکتا تو پارلیمنٹ کوئی سزا تجویز کرے ¾ افغانستان میں پاکستان کے کر دار کو دنیا سراہتی ہے کسی کاوش سے افغانستان میں امن و استحکام قائم ہوتا ہے تو بہت مثبت کام ہے۔بدھ کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویزرشید نے کہاکہ نیب پگڑی اچھال ادارہ بن چکا ہے جو بد عنوان عناصر کو سزا دلوانے میں ناکام رہا ہے
نیب کو آمریت کے دور میں سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا وزیر اعظم نواز شریف پر تمام کیسز مشرف دور میں بنائے گئے
ڈکٹیٹر نے مقدمات وفاداریاں خریدنے کےلئے کیسز بنائے اس لئے کوئی بھی ثابت نہیں ہوا میاں نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم منتخب ہو ئے ان کے دامن پر داغ لگائے گئے نیب اس قابل نہیں کہ وہ ان الزامات کو کسی عدالت میں لے جا کر ثابت کر سکے نیب نے جو سڑک بنانے کاالزام لگایا ہے اس پر آرمی ویلفیئر بورڈ کی ہاﺅسنگ سوسائٹی ہے ,یونیورسٹی موجود ہے , پرائیویٹ ہسپتال ہے اور ہاﺅسنگ سوسائٹیز ہیں اگر سڑک نہ ہوتی تو کیا طالب علم پیرا شوٹ یا ہیلی کاپٹر کے ذریعے یونیورسٹی پہنچتے ہسپتال میں لاکھوں مریضوں کاعلاج ہوتا ہے انہوںنے کہاکہ یہ الزام مشرف کے کہنے پر میاں نواز شریف پر لگایا گیا جب نیب ایسے الزامات پر سزا نہیں دلوا سکتی تو وہ ایسے مقدمات کیوں قائم رکھے ہوئے ہے انہوںنے تجویز دی کہ ہمیں اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کر نی چاہیے کہ کوئی ادارہ یا کوئی شخص کسی پر الزام لگاتا ہے تو کم از کم ایک مقررہ مدت کے اندر الزام ثابت نہ ہونے کی صورت میں الزام لگانے والے افسر اور ادارے کو وہی سزا ملنی چاہیے جو اس ملزم کو ملنی تھی انہوںنے کہاکہ نیب بے بنیاد مقدمات بنانے پر کو سزا ملنی چاہیے نیب کا احتساب ہونا چاہیے انہوںنے کہاکہ نیب نے میاں نواز شریف پر جو الزامات لگائے ہیں پندرہ سالوں میں ایک بھی مقدمہ شروع نہیں کر سکا نیب کو کسی کی پکڑی اچھالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اگر نیب اپنے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کر سکتا تو پارلیمنٹ کوئی سزا تجویز کرے نیب کسی کو حراست میں لیتا ہے ان کے پاس شواہد ہیں تو عدالت جائے ورنہ ذمہ داری قبول کرے اور اس بدنامی کی اسے سزا ملنی چاہیے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ دیر آید درست آید کے مصداق نیب کے حوالے سے اب بھی کوئی اقدام اٹھالیا جائے تو درست ہوگا انہوںنے کہاکہ کسی ادارے کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بغیر شواہد کے لوگوں کی پگڑیاں اچھالتا رہے ہمیں اس کو پابند کر نا ہوگا اور آئین میں موجود طریقہ کار کے تحت قانون سازی کی جانی چاہیے الزام لگانے والا کا فرض ہے کہ اگر وہ ثابت نہیں کر سکتا تو الزام واپس لے اور لوگوں کے نیک دامنی کو آلودہ نہ کرے افغانستان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ افغانستان میں استحکام کےلئے پاکستان نے کر دار ادا کیا افغانستان میں انتخابات کے دور ان پاکستان کے کر دار کو سراہا گیا ہمارے کر دار کو دنیا سراہتی ہے کسی کاوش سے افغانستان میں امن و استحکام قائم ہوتا ہے تو یہ بہت مثبت کام ہے جس پر ہمیں اطمینان اور فخر ہے نیب کے حوالے سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ قانون سازی کے حوالے سے قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی سے مشورہ کر کے متفقہ رائے پر عمل کیا جائےگا ۔1999میں مشرف نے مقدمات قائم کئے لیکن وہ سزا نہیں دلواسکا نیب کو چاہیے تھا کہ وہ ان مقدمات پر سزا دلواتی یا ان کو ختم کرتی لیکن انہوںنے یہ دونوں کام نہیں کئے ۔
نوازشریف اوردیگررہنماﺅں پر مقدمات،حکوت کا نیب کیخلاف بڑے اقدام پر غور
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
تعلیمی اداروں کے ہفتہ وار شیڈول میں تبدیلی کردی گئی
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے
-
ہفتے میں 3 دن اسکول بند رکھنے کی تجویز، رانا سکندر حیات کا اہم اعلان
-
تعلیمی ادارے ہفتے میں دو دن بند، نیا شیڈول جاری
-
بیرون ملک سے موبائل فونز لانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
’سام سنگ‘ کے سستے فون نے سب کو حیران کردیا
-
کون سے ملازمین وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت قرض لینے کے اہل نہیں؟ اہم خبر
-
وزیرِ اعظم کی ہدایت پر پیٹرول سبسڈی سکیم میں ایک اورریلیف مل گیا
-
جوان افراد میں کینسر تیزی سے پھیلنے کی ایک اہم ترین وجہ دریافت
-
پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری ممالک کی نئی فہرست جاری
-
ہفتہ وار 3 چھٹیاں؟ دفاتر اور تعلیمی اداروں کے لیے اہم تجویز زیر غور
-
شادی کی تقریبات بارے نیا حکم نامہ جاری
-
برکس سربراہی اجلاس؛ عالمی رہنماؤں کو صرف سبزیوں کے کھانے پیش کرنے پر بھارت میں تنازعہ
-
وزٹ ویزے پر بیرون ملک جانے والے پاکستانی ہوشیار!



















































