منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کلیجی کے وہ فوائد جن سے بہت سے افراد ناواقف ہیں! یہاں تک کہ وہ لوگ جو کلیجی نہیں کھاتے اگر انہیں اس کا فائدہ معلوم ہو جائے تو شاید وہ اپنا فیصلہ تبدیل کر لیں

datetime 21  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور (نیوز ڈیسک) اکثر افراد جانوروں کے گردے، دل، اوجڑی، زبان اور لبلبے کا گوشت نہیں کھاتے، وہ اسے اچھا نہیں سمجھتے، البتہ وہ جانور کی کلیجی اور دماغ کا گوشت شوق سے کھاتے ہیں، اسی طرح بعض افراد کو جانوروں کے گردوں، دل، دماغ، اوجھڑی، کلیجی، زبان اور لبلبے کا گوشت کھانے کا شوق ہوتا ہے۔ اس بارے میں ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جانوروں کی ٹانگوں،

پٹھوں، کمر اور پیٹ کے گوشت کی نسبت جانوروں کے اعضاء کا گوشت زیادہ صحت مند ثابت ہوتا ہے۔ ہیلتھ جنرل کی رپورٹ کے مطابق جانوروں کے گردوں، دل، دماغ، اوجڑی، کلیجی، زبان اور لبلبے میں وٹامنز اور آئرن سمیت میگنشیم، سیلینیئم، زنک اور دوسرے غذائی اجزاء ہوتے ہیں اور یہ تمام اجزاء انسانی جسم کو مضبوط اور صحت مند بنانے میں انتہائی سود مند ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھیڑ، بکری ، گائے، بھینس اور دیگر دودھ دینے والے جانوروں سمیت مرغی اور بطخ جیسے پرندوں سے حاصل کردہ کلیجی، گردوں، دل، دماغ اور اوجڑی میں انسانی جسم کو مضبوط بنانے والے اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سو گرام کلیجی کو پکانے کے بعد اس سے 27 گرام پروٹین، 175 کیلوریز، 1386 فیصد وٹامن بی 12، 522 فیصد وٹامن اے، 51 فیصد وٹامن بی 6، 47 فیصد سیلینیئم، 35 فیصد زنک اور 34 فیصد آئرن حاصل ہوتا ہے اور یہ روزانہ کے حساب سے انسانی صحت کے لیے بہت اچھی غذا ہے۔ کلیجی، اوجڑی، گردوں، دل اور دماغ کا گوشت جہاں ایک طرف حاملہ خواتین کے لیے انتہائی مفید ہے تو دوسری طرف بچے کو دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے بھی انتہائی مفید ہے اس سے بچے کی صحت پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے۔ اس رپورٹ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان تمام اعضاء کے گوشت میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے لیکن یہ نقصان دہ نہیں ہوتی۔ ماہرین صحت کا کہناہے کہ انسانی جگر، کلیجی اور گردے کولیسٹرول پیدا کرتے ہیں لیکن یہ اس وقت کولیسٹرول پیدا کرنا بند کر دیتے ہیں جب آپ کوئی کولیسٹرول کی مقدار والا کھانا یا پھل کھاتے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ان اعضاء کا گوشت کھانے سے کولیسٹرول کی سطح نہیں بڑھتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…