جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

کارگل تنازعہ پرمشرف نے نواز شریف کو جھانسہ دیا ایل او سی سے پاکستانی فوجیوں کے انخلا کی وجہ کیا بنی؟ اٹل بہاری واجپائی کے سیکرٹری شکتی سنہا کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 21  دسمبر‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی )سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے پرائیویٹ سیکریٹری نے کہاہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب اٹل بہاری واجپائی نے1999میں کارگل جنگ کے دوران کم از کم پانچ بار فون پر ایک دوسرے سے بات کی ، آرمی چیف جنرل پرویز مشرف

نے تنازع کے دوران نواز شریف کو جھانسہ دیا تھا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق اٹل بہاری واجپائی کے ہنگامہ خیز دورانیے پر مبنی ”واجپائی وہ سال جنہوں نے بھارت کو بدل دیا”نامی کتاب کئی برسوں تک واجپائی کے نجی سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے سابق بیوروکریٹ شکتی سنہا نے لکھا کہ نواز شریف اور تنازع کے خاتمے کے لیے بند دروازوں کے پیچھے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے آبزرور ریسرچ فانڈیشن کے سابق سربراہ آر کے مشرا کا انتخاب کیا گیا اور نوز شریف اور مشرا کے مابین ہونے والے واقعے کے بعد بھی یہ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔کتاب میں لکھا گیا کہ نواز شریف کی پوزیشن بہت نازک تھی اور بعد میں ہونے والی ملاقات میں انہوں نے مشرا کو عندیا دیا کہ انہیں باغ میں چہل قدمی کرنی چاہیے، ظاہر ہے انہیں شک تھا کہ ان کے گھر کو ٹیپ کیا جا رہا ہے، جب مشرا نے واجپائی کو اس کی اطلاع دی تو مخر الذکر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ نواز شریف کی حالت اس وقت ایک قیدی سے زیادہ

نہیں۔ان میں سے ایک کال واجپائی کے دورہ کارگل کے بعد جون میں سری نگر میں آئی تھی، سری نگر پہنچنے پر واجپائی نے مجھ سے نواز شریف سے رابطہ قائم کرنے کو کہامیں اور میری چھوٹی ٹیم نے کوشش کی لیکن ہم کامیابی حاصل نہیں کرسکے، تب وہاں موجود ایک مقامی افسر نے

ہمیں بتایا کہ جموں و کشمیر سے پاکستان (+92) ڈائل کرنے پر پابندی ہے، ٹیلی کام کے حکام کو کہا گیا کہ وہ کچھ دیر کے لیے یہ سہولت کھولیں تاکہ دونوں وزرائے اعظم بات کریں۔کتاب میں دعوی کیا گیا کہ ایل او سی سے پاکستانی فوجوں کے انخلا کی ایک بڑی وجہ دو ٹیلیفونک ریکارڈنگ

بنی تھیں جو ہندوستان کی بیرونی خفیہ ایجنسی کے ریسرچ اینڈ اینلاسٹ ونگ کے اس وقت کے سربراہ اروند ڈیو وزیر اعظم واجپائی کے پاس لائے تھے، ریسرچ اینڈ اینلاسٹ ونگ کے سربراہ اروند ڈیو نے پاک فوج کے سربراہ پرویز مشرف اور ان کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد عزیز

کے مابین دو ٹیلی فونک ریکارڈنگ ساتھ کے کر آئے تھے، یہ بات واضح تھی کہ پاک فوج اس میں شامل تھی اور اگر اس میں مجاہدین شامل بھی ہیں تو ان کا کردار بہت معمولی ہے۔بعد میں یہ ٹیپ میڈیا کے ساتھ شیئر کی گئیں لیکن سفارتی طور پر ویویک کاٹجو اور پس پردہ گفتگو کرنے والے آر کے مشرا کے ذریعے وزیر اعظم نواز شریف کے لیے پاکستان بھی اسمگل کی گئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…