جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا ویکسین حلال ہے یا حرام؟ مذہبی طبقات تحفظات کا شکار، نئی بحث چھڑ گئی ‎

datetime 21  دسمبر‬‮  2020 |

جکارتہ(این این آئی)دنیا بھر میں پھیلنے والے کرونا وائرس کے علاج کے لیے تیار کردہ ویکسینوں کے بارے میں مذہبی طبقات نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اس کی تیاری میں سر کی جیلی (جیلیٹین)استعمال کی جارہی ہے،اس لیے یہ حرام ہے اور اس کو لگوانے سے گریز کیا جائے۔

ان مذہبی طبقات میں مسلم اور یہود دونوں شامل ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے علما نے بالخصوص کووِڈ19کی ویکسینوں کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ۔انھوں نے اکتوبر میں انڈونیشی سفارت کاروں کے ساتھ چین کا دورہ بھی کیا تھا۔انڈونیشی سفارت کارتو چین سے ویکسین کی لاکھوں خوراکیں خریدکرنے کے سودے کو حتمی شکل دینے کے لیے گئے تھے لیکن علما کے دورے کا مقصد اس امر کا جائزہ لینا تھا کہ آیا چین کی تیارکردہ ویکسینوں کا شریعت اسلامی کی رو سے استعمال جائز بھی ہے۔ان ویکسینوں کی تیاری میں سر کی مصنوعات کے استعمال سے متعلق مذہبی گروپوں نے بعض سوالات اٹھائے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان ویکسینوں کو لگانے کی مہم متاثر ہوسکتی ہے۔مسلمانوں کے علاوہ آرتھو ڈکس یہود بھی سر کے گوشت سے بنی مصنوعات کو استعمال نہیں کرتے ہیں اور انھیں ناپاک اور حرام سمجھا جاتا ہے۔پاکستان میں بھی ویکسینوں کے بارے میں مذہبی وجوہ کی بنا پر اعتراضات کیے جاتے ہیں اور مذہبی اور سیاسی وجوہ کی بنا پر ویکسینوں کے استعمال کو درست نہیں سمجھاجاتاہے۔تاہم ملک میں پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کو جیل کی سزا دی جاسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…