اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

”وزیر اعظم کی حالت پر ترس آتا ہے ” فوج میرے ماتحت ہے سے متعلق عمران خان کے بیان پر مریم نواز کا رد عمل

datetime 19  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور، اسلام آباد(این این آئی، اے پی پی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے فوج میرے اوپر نہیں میرے ماتحت ہے سے متعلق وزیرا عظم عمران خان کے بیان پر کہا ہے کہ وزیر اعظم کی حالت پر ترس آتا ہے جس کو یہ بھی بتانا پڑ جائے، باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔

بندہ تابعدار ہے۔انہوںنے بہ بات ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہی ۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اپوزیشن کہتی ہے کہ عمران خان پتلا ہے ہم اسٹیبلشمنٹ سے بات کریں گے یہ دراصل فوج پر دبائو ڈال رہے ہیں ، یہ ان کی جمہوری تحریک ہے کہ اپنے آپ کو جمہوری کہنے والے کس سے اپیل کر رہے ہیں انہیں پتہ ہے کہ عمران خان نے ہلنا نہیں ہے یہ غداری کا کیس ہے، پاکستان کی فوج حکومت کا ادارہ اور میرے ماتحت ہے وہ میرے اوپر نہیں ہے میں منتخب وزیراعظم ہوں، میرا ماتحت ادارہ مجھے ہٹائے ایسا دنیا کی جمہوریت میں کہیں نہیں ہوتا، وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں کوئی ایک ایسی بتائی جائے جو میں نے اپنے منشور یا کردار سے ہٹ کر کی ہو، یا دبائو میں آ کر کی ہو، میری حکومت جو اقدامات اٹھانا چاہتی ہے فوج اور سارے ادارے میرے ساتھ کھڑے رہے۔ دو سالوں میں پاکستان کو مشکل وقت سے نکالا، کورونا کے دوران معیشت کو سنبھالا دیا، پاکستانی فوج اور ادارے ساتھ نہ کھڑے

ہوتے تو اس میں کامیابی نہ ہوتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف جنرل جیلانی اور ضیا الحق کے سہارے سیاست میں آئے، وہ سیاست کی الف، ب سے آگاہ نہیں تھے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ جنرل درانی نے آئی جے آئی بنانے کیلئے نوازشریف کو پیسے دیئے، اس ملک میں کرپشن نوازشریف

نے شروع کی جوہر ٹائون میں پلاٹ اور پیسے دے کر پارٹی بنائی۔ اس ملک کا بیڑا غرق کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کو تکلیف ہے کہ فوج نے کیوں ان کی مدد نہیں کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ جنرل باجوہ کی تعریف کرتے ہیں کہ ان کا نام لے کر ان پر حملے کئے جا رہے ہیں لیکن وہ اپنے ٹھہرائو

کی وجہ سے یہ برداشت کر رہے ہیں، وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، یہ لوگ فوج کو جمہوری حکومت کو ہٹانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ پاک فوج سیلاب، پولیو مہم، سی پیک کے منصوبوں سمیت ہر جگہ پر حکومت کے ساتھ ہے، میں ان سے خوش ہوں، نوازشریف اور آصف زرداری کا فوج سے مسئلہ یہ ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کو ان کی ساری چیزوں کا علم ہے۔ ان کا مسئلہ ہے کہ انہوں نے چوری کرنا ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…