ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

“کرپشن کی تحقیقات” وفاق اور سندھ میں ناراضی

datetime 8  جولائی  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو ملنے والے خصوصی اختیارات کی شدید مخالفت اور عدالت سے رجوع کرنے کی دھمکی کے بعد سے صوبہ سندھ میں وفاقی اداروں کے اختیارات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔یہ تنازع ایسے وقت پیدا ہوا ہے جبکہ صوبائی حکومت پہلے ہی رینجرز کی بعض کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا اصرار ہے کہ ایف آئی اے کو کسی بھی مشتبہ شخص کو مقدمہ درج کیے بغیر 90 دن تک حراست میں رکھنے کے اختیارات صرف سندھ تک محدود ہیں۔ ان کے مطاق صوبے میں احتساب کے قومی ادارے نیب اور ایف آئی اے کی حالیہ کارروائیاں صوبے پر حملے کے مترادف ہیں۔ایم کیو ایم نے اس معاملے میں صوبائی حکومت کے موقف کی مکمل حمایت کی ہے مگر حزب اختلاف کی بعض دیگر جماعتوں نے صوبے میں مبینہ مالی بدعنوانیوں کی شکایات پر نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیوں کی حمایت کی ہے۔یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی معاون خصوصی شرمیلا فاروقی نے وفاقی حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کردیا ہے کہ ایف آئی اے کو تحفظ پاکستان قانون کے تحت اضافی اختیارات پورے ملک کے لیے دئیے گئے ہیں. انھوں نے کہا کہ ’سندھ واحد صوبہ ہے جہاں ایف آئی اے کو یہ اختیارات دیے گئے ہیں اور یہاں ہو یہ رہا ہے کہ ہمارے کلرکوں اور مختلف محکموں کے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے اور انھیں اس حد تک ہراساں کیا جارہا ہے کہ انھوں نے اپنا کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔‘انھوں نے اس تاثر کو رد کردیا کہ صوبہ سندھ میں کرپشن کی شکایات ملک کے باقی حصوں سے زیادہ ہیں۔ ’اس ملک میں آپ یہ تو نہیں کہہ سکتے نا کہ کرپشن نہیں ہے یا یہ کہ پنجاب، بلوچستان یا دوسرے صوبوں میں کرپشن نہیں ہے لیکن وہاں پر ہم نے نہیں دیکھا کہ ایف آئی اے کو یہ خصوصی اختیارات دیے گئے ہوں۔‘شرمیلا فاروقی نے کہا کہ صوبے میں کرپشن کی روک تھام کے لیے اینٹی کرپشن کا محکمہ اور وزیر اعلیٰ سندھ کی انسپیکشن ٹیم موجود ہے اور اگر وفاق کے سامنے کرپشن کا کوئی بڑا معاملہ آتا ہے تو وہ صوبے کی مدد مانگ سکتا ہے تاہم ’یہ نہیں ہوسکتا کہ وفاق سندھ کی صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ ڈالے۔‘سندھ واحد صوبہ ہے جہاں ایف آئی اے کو یہ اختیارات دیے گئے ہیں اور یہاں ہو یہ رہا ہے کہ ہمارے کلرکوں اور مختلف محکموں کے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے اور انھیں اس حد تک ہراساں کیا جارہا ہے کہ انھوں نے اپنا کام کرنا چھوڑ دیا ہے’اٹھارویں ترمیم کے بعد سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر صوبے کو صوبائی خودمختاری دی گئی ہے اور اگر وفاق کے ادارے صوبے کے معاملات میں مداخلت کریں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صوبوں کو کمزور کررہے ہیں، صوبائی حکومت کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں اور صوبائی خودمختاری کی اہمیت کو کم کررہے ہیں۔‘
(۔بشکریہ (بی بی سی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…