اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

صبر اور احتیاط کریں چینی ویکسین کامیاب ہوئی تو پاکستانیوں کو مفت ملے گی

datetime 5  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد،نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی) سینئر صحافی ہارون رشید نے نجی ٹی و ی پروگرام میں کروناویکسین سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ اچھی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، برطانیہ نے ملک میں کورونا ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔وہ ستر فیصد موثر ہے

جبکہ اسے 70 گریڈ پر رکھنا پڑتا ہے۔امریکا میں بھی جلد اجازت ملنے والی ہے۔چین بھی کوشش کر رہا ہے اور اگر چینی ویکسین کامیاب ہوگئی تو پاکستانیوں کو مفت ملے گی، آپ کو کوئی پیسہ خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔اگر اخراجات ہوئے بھی تو برائے نام ہوں گے لیکن چینی ویکسین پاکستان کو مفت فراہم کی جائے گی۔ ویکسین بننے میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ لگیں گے تب تک لوگ کچھ احتیاط کریں اور کچھ صبر کرلیں ۔ہر طرف بے احتیاطی کی جارہی ہے، لوگ مارکیٹوں میں بھی گھوم پھر رہے ہیں جبکہ جلسے جلوس بھی ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی وباء قرار دیئے جانے والے کووڈ 19 سے بچاؤ کی ویکسین کے حصول کی دوڑ میں غربا روندے جا سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا کہ امیر ممالک جب ویکسین کے حصول کی دوڑ شروع کریں گے تو اس میں غربا کے روندے جانے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب امیر ممالک ویکسین متعارف کرانے جارہے ہیں تو ایسے میں غربا کو نظرانداز کیے جانے کا بھی خطرہ موجود ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا کہ کووڈ 19 سے جنم لینے والی صورتحال میں ایک سال کے بعد امید

کی کرن دکھائی دی ہے۔ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ ایسی دنیا ناقابل قبول ہے کہ جہاں امیر و طاقتورطبقہ ویکسین کے حصول کی دوڑ میں غرباء اور پسماندہ طبقات کو روند ڈالے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے موجودہ صورتحال کو بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے حل میں

سب کو برابر کا حصہ دار بننا چاہیے۔اقوام متحدہ کے تعاون سے کنسورشیم تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد ویکسین کی دنیا بھر میں مساوی تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے چند روز قبل کورونا ویکسین کی کامیابی کے دعوؤں پر کہا تھا کہ ویکسین کے نتائج گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…