اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کمپیوٹرگیم کھیلیں اوروزن گھٹائیں

datetime 7  جولائی  2015 |

لندن(نیوزڈیسک) یونیورسٹی آف ایکیسٹر اور کارڈف یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر ایک ویڈیو گیم بنایا ہے جو کھیلنے والے کو وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔یہ گیم کھیلنے والے کو روزانہ 220 یا اس سے کم کیلوریز کی خوراک کھانے کی ترغیب دیتا ہے اور بہترین تنائج کے لیے اسے ہفتے میں کم سے کم چار مرتبہ کھیلنا ہوتا ہے۔ گیم کا اصل مقصد کھیل کھیل میں ذہن کو کم خوراکی کے پیغامات دینے ہوتے ہیں۔گیم میں وزن بڑھانے والے اورصحت مند کھانوں کی تصاویر ابھرتی ہیں جن میں جنک فوڈ کی تصویر پرکلک کرنے سے پرہیز اور جسم کے لیے صحت مند کھانوں کی تصاویر پر کلک کرکے گیم جیتا جاسکتا ہے۔ اس طرح لاشعوری طور پر دماغ مرغن اور مضرِصحت کھانوں کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اس طرح کیلیوریز کنٹرول میں ہونے سے ایک ہفتے میں ڈیڑھ پونڈ تک وزن کم کیا جاسکتا ہے۔اس کمپیوٹر گیم کی آزمائش میں 42 افراد کو شامل کیا گیا جن کی اکثریت کا وزن ذیادہ تھا اور وہ کیلوریز سے بھرپور کھانے مثلا بسکٹ، کیک اور چاکلیٹ وغیرہ کھانے کے عادی تھے۔ ان میں سے 88 فیصد افراد گیم سے خوش ہوئے اور اسے جاری رکھنے کا وعدہ کیا ۔ ماہرین کے مطابق یہ موٹاپے کا باقاعدہ علاج نہیں لیکن علاج کی جانب ترغیب دینے کا ایک ذہنی پروگرام ہے جس کے اثرات دیرپا رہتے ہیں اور گیم کی مشق سے وہ مرغن اور وزن بڑھانے والی غذاں سے دور رہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…