اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان کی طبیعت انتہائی ناساز ڈاکٹرز کی سینئر ٹیم کا معائنہ، وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا‎

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/آئن لائن)سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی کی طبیعت تشویشناک ہے۔ہسپتال ذرائع نے بتایا ہے کہ میر ظفر اللہ خان جمالی کو وینٹی لیٹر ز پر منتقل کر دیا گیا ہے، راولپنڈی کےآرمڈ فورسز انسٹیٹویٹ آف کارڈیالوجی اینڈ نیشنل انسٹیویٹ آف ہارٹ ڈیزیزی کے

سینئرز ڈاکٹر ز کی ٹیم نے ان کا معائنہ کیا ہے ۔ قبل ازیں صدر مملکت عارف علوی نے سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خا ن جمالی کے انتقال کی جھوٹی خبر چلا دی ، وفاقی و صوبائی وزراء کی جانب سے بھی صدر کے ٹویٹ کے بعد بغیر تصدیق کے تعزیت کا سلسلہ شروع ہوگیا ، بعدازاں جب غلطی کا پتا چلا تو ڈاکٹر عارف علوی نے فوراً اپنا ٹویٹ ہٹا دیا ، میر ظفر خان جمالی کے اہلخانہ سے بھی معذرت کرلی ۔صدر مملکت نے کہاان کے بیٹے سے بات ہوئی ہے میر ظفراللہ جمالی ابھی حیات ہیں اللہ انہیں صحت دے اسد عمر، فواد چودھری، فردوس عاشق اعوان اور فیصل جاوید بھی دوڑ میں پیچھے نہ پڑے سب نے تصدیق کے بغیر ہی تعزیتی ٹویٹس داغ دییموقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فواد چودھری نے بھی اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا اہم عہدوں پر موجود وزرا کے تصدیق کے بنا بیانات لمحہ فکریہ بن گئے کہا کہ غلط معلومات کی بنیاد پر کیا گیا اپنا ٹوئٹ ہٹادیا ہے، میر ظفراللہ خان جمالی کے اہل خانہ سے معذرت خواہ ہوں۔صدر مملکت عارف علوی نے ٹوئٹر پر سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کی وفات پر تعزیتی بیان جاری کیا تاہم کچھ ہی دیر بعد اسے حذف کردیا۔بعد ازاں نئی ٹوئٹ میں صدر مملکت نے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے کی وضاحت کی اور کہا کہ میر ظفراللہ خان جمالی وینٹی لیٹر پر ہیں۔صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ غلط معلومات کی بنیاد پر کیا گیا اپنا ٹوئٹ ہٹادیا ہے، میر ظفراللہ خان جمالی کے اہل خانہ سے معذرت خواہ ہوں۔صدر مملکت نے کہا کہ میں نے عمرجمالی سے بات کی جنھوں نے بتایا کہ ظفراللہ جمالی وینٹی لیٹر پر ہیں، اللہ تعالیٰ میر ظفراللہ جمالی کو جلد صحت کاملہ عطا فرمائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…