بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے بیروزگار فرسٹ کلاس کرکٹر ریڑھی پر پھل بیچنے لگے، وزیراعظم یہ کام کریں گے تو کھلاڑیوں کو فائدہ ہو گا

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن)وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق ملک سے ادارہ جاتی کرکٹ ٹیموں کو ختم کرنے سے بہت سارے فرسٹ کلاس کرکٹر بے روز گار ہوئے۔ان میں لاہور سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ بائیں ہاتھ کے سپنر اور دائیں ہاتھ کے بلے باز حیدر علی بھی شامل ہیں جو اب اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے پھلوں کی ریڑھی لگا رہے ہیں۔انہوں نے ایک انٹرویو میں

وزیراعظم عمران خان سے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے اس اقدام سے ان جیسے ہزاروں کرکٹرز کے گھروں کا چولہا جل سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ 6 سال سے ایک ادارے کی طرف سے کھیل رہے ہوں اور تنخواہ لے رہے ہوں تو آپ کے گھر کا سسٹم چل رہا ہوتا ہے لیکن اچانک اگر یہ سب چیزیں بند ہوجائیں تو کوئی کھلاڑی اوبر چلاتا ہے،کوئی ریڑھی لگاتا ہے اور کوئی لکڑی کا کام کرتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آپ کی بچت بھی صرف 4 سے 5 ماہ ہی چلتی ہے، ان کے گھر میں کوئی اور کمانے والا بھی نہیں ہے اور ساری ذمہ داری بھی انہی کے کندھوں پر ہے۔حیدر علی کا مزید کہنا تھا کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم ہونے کے بعد میں نے اپنے پاس موجود کچھ رقم سے یہ ریڑھی لگائی، روز صبح منڈی جاکر پھل خرید کر لاتا ہوں اور بیچتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا ہم کرکٹرز کا کوئی قصور نہیں ہے، اگر وزیراعظم عمران خان ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بحال کریں گے تو صرف میرا نہیں بلکہ اور کھلاڑیوں کا بھی فائدہ ہوگا جو اس وقت مالی طور پر جدوجہد کررہے ہیں،وہ سب اچھے کھلاڑی ہیں اور کسی کی سفارش پر نہیں آئے۔حیدر علی کاکہنا تھا کہ انہوں نے 15-2014 میں فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز کیا اور سوئی نادرن گیس کمپنی (ایس این جی پی ایل) اور زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (زیڈ ٹی بی ایل) کی نمائندگی کی۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے شاندار کرکٹ کیریئر کو

مثال بناتے ہوئے ہمیشہ اس موقف کے حامی رہے ہیں کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرکے کرکٹ علاقائی بنیادوں پر ہونی چاہیے کیونکہ اس طرح نئے ٹیلنٹ کو موقع ملتا ہے اور کرکٹ کے دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…