اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں گیس بحران کا ذمہ دار وزیراعظم عمران خان قرار،بروقت یہ کام نہ کرنے سے 122 ارب کا نقصان،عوام کی جیبوں سے سینکڑوں ارب نکلوائے جانے کا دعویٰ

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے ملک بھر میں گیس کے بحران کا ذمہ دار وزیراعظم عمران خان کو ٹھہراتے ہوئے کہاہے کہ ایل این جی گیس بروقت اسپورٹ نہ کرنے کی وجہ سے 122 ارب روپے کا نقصان ہوگیاہے۔ گیس اور بجلی کی قلت کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ عوام کو ہر شے مہنگی خریدنے پرمجبور کردیا گیاہے۔ صارفین پر یوٹیلٹی بلز

کا اضافی بوجھ لاددیا گیاہے۔ چینی، آٹا، گیس کے مسائل حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کی وجہ سے ہیں اور حکومت عوام کی جیبوں پر7 سو ارب روپے کا ڈاکہ ڈال چکی ہے۔ غریب، مزدور، کسان اور عوام دشمن حکومت کی الٹی گنتی شروع ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں وفود سے گفتگو اور ملی یکجہتی کونسل کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ عمران سرکار ملک کی پہلی حکومت ہے جس نے فوج، پولیس، بیوروکریسی اور سیاست میں بدترین انتشار، گروہ بندی اور فساد پیدا کردیاہے۔ افواج، پولیس، بیوروکریسی سرکاری ریاستی ادارے ہیں۔ عوام کی حب الوطنی اور اعتماد کا حق ہے کہ ملک میں شخصی، گروہی، ادارہ جاتی بالادستی کی بجائے آ ئین، قانون اور آزاد نظام عدل کی حکمرانی قائم کی جائے۔ اسلامی پاکستان ہی ملک کے استحکام اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ ملک بھر میں دینی جماعتوں کے فقید المثا ل جلسوں نے ثابت کردیاہے کہ مذہبی قوتیں آج بھی طاقت ہیں اور ملک و ملت کو بحران سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ملت اسلامیہ کو عروج دور نبوی ؐ کے نظام سے مل سکتاہے۔ خلافت راشدہؓ کا زمانہ ہی مسلمانوں کے نظریاتی عروج کادور تھا۔ پاکستان مثالی نظریاتی بنے اور خود انحصاری و زراعت کی ترقی کے ذریعے اسلامی معاشی نظام لایا جائے تو عالم اسلام کے اتحاد کے دروازے کھل جائیں گے۔ کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ بھی اتحاد امت کے ذریعے ممکن ہوگا۔ ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس 3 دسمبر کو مرکز منہاج القرآن میں منعقد ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…