ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

موسم سرماکی ٹھنڈی ہوائیں چلنے کے ساتھ ہی ڈرائی فروٹ کی قیمتوں میں بھی من مانا اضافہ کردیا گیا

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)شہرقائد میں موسم سرماکی ٹھنڈی ہوائیں چلنے کے ساتھ ہی ڈرائی فروٹ کی قیمتوں میں بھی من مانا اضافہ کردیا گیاہے۔ڈرائی فروٹ میں چلغوزہ 9 ہزار روپے فی کلو جبکہ مونگ پھلی کی قیمت600روپے کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی ہے، پستہ، بادام، اخروٹ، خشک خوبانی، کھجور، کاجو اور خشک انجیر کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، اشیائے خورونوش کے

ساتھ ڈرائی فروٹ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔شہرقائد میں موسم سرماکی ٹھنڈی ہوائیں چلنے کے ساتھ ہی ڈرائی فروٹ کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے، شہریوں کی مانگ کو دیکھتے ہوئے ڈرائی فروٹ کے تاجروں نے من مانا اضافہ کردیا ہے۔مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق چلغوزے کی فی کلوقیمت9 ہزار روپے کی بلندترین سطح پرپہنچ گئی ہے، کچا چلغوزہ 5 ہزار روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے، اعلی کوالٹی کا پستہ 2 ہزار روپے جبکہ درمیانہ کوالٹی پستہ 1600 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے، کاجو کی قیمت 2200 روپے کلو سے بڑھا کر 2600 روپے فی کلو ہوچکی ہے، کاغذی بادام کی قیمت 750 روپے فی کلو سے بڑھا کر 1000 روپے فی کلو ہوچکی ہے، کاغذی اخروٹ 400 روپے کلو سے بڑھ کر 800 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔خشک انجیر کی قیمت میں 300 روپے کلو اضافہ کردیا گیا جس کے بعد انجیر 650 روپے کلو ہوچکی ہے، خشک خوبانی کی قیمت 400 روپے کلو سے بڑھا کر 8 سو روپے کلو کردی گئی ہے، 220 روپے فی کلو ملنے والی کھجور کی قیمت میں 500 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، 50 روپے پا ملنے والی مونگ پھلی 150 روپے پائو فروخت کی جارہی ہے۔مارکیٹ میں جگہ جگہ ڈرائی فروٹ کے اسٹالز موجود ہیں لیکن خریدار ڈرائی فروٹ کی قیمتیں سن کر پریشان ہوجاتے ہیں اور خریداری نہیں کرتے، شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈرائی فروٹ کی قیمتوں کا تعین کرنے کے لیے نظام متعارف کرایا جائے تاکہ سردی کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے شہری ڈرائی فروٹ کا استعمال کرسکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…