اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

انتخابی نتیجے پر گلگت ریجن میں کشیدہ حالات، کرفیو لگانے کا عندیہ

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

گلگت ( آن لائن ) ڈی آئی جی گلگت ریجن وقاص احمد نے کہا ہے کہ حالات زیادہ خراب ہوئے تو کرفیو لگا دیں گے، فی الحال حالات کنٹرول میں ہیں، شرپسندی میں 20 سے 25 افراد ملوث ہیں،کچھ لوگوں کو شناخت کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے کارکنان نے جی بی اے 2 گلگت 2 کے انتخابی نتائج میں دھاندلی پر احتجاجی مظاہرہ کیا، ریورویو روڈ سمیت مختلف مقامات پر

پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں، مظاہرین نے ایک سرکاری دفتر اور چار سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس پر حالات کشیدہ ہونے پر پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کرلی گئی ہے، مظاہرین نے الیکشن کمشنر کے دفتر کا گھیراؤ بھی کیا۔ دوسری جانب انتخابی نتائج میں دھاندلی کیخلاف دیامر میں پیپلزپارٹی کے کارکنان کا احتجاج جاری ہے۔مظاہرین نے صدیق اکبر چوک میں ٹائر جلا کر سڑک بلاک کردی ہے۔سکردو میں دھاندلی کیخلاف پیپلزپارٹی کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے اور سڑکیں بلاک کردیں۔ ڈی آئی جی گلگت ریجن وقاص احمد نے کہا کہ حالات کنٹرول میں ہیں ، دوبارہ خراب ہوئے تو کرفیو لگایا جاسکتا ہے، شرپسندی میں 20 سے 25 افراد ملوث ہیں، سی سی ٹی وی کی مدد سے کچھ لوگوں کو شناخت کرلیا ہے۔ دریںاثناء ترجمان چیئرمین پیپلزپارٹی سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ جی بی میں حالات خراب ہوئے تو ذمہ دارچیف الیکشن کمشنراور وفاقی حکومت ہوں گے۔ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کا الیکشن چوری کرنے کے بعد اب تشدد پر اتر آئی ہے۔ ووٹ چوری ہونے کیخلاف پرامن احتجاج پر فائرنگ اور شیلنگ کی جارہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے فرانزک سے قبل حلقہ 2 کا رزلٹ دے کرمعاہدے کی خلاف ورزی کی۔مصطفیٰ نواز نے کہا کہ پْرامن مظاہرین پرتشدد کروا کر وفاقی حکومت حالات خراب کرنا چاہتی ہے۔ کیسے ممکن ہے ووٹ پیپلزپارٹی کے زیادہ ہوں اور زیادہ نشستیں پی ٹی آئی کو مل جائیں؟ لوگ اس فاشسٹ حکومت کو اب مزید برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی امیدوارکو جتوانے کیلئے الیکشن کمیشن کا رکارڈ تک غائب کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…