جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب نے شہریوں کی کم سے کم تنخواہ 4 ہزار ریال کرنے کا اعلان کر دیا

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی ) سعودی عرب نے شہریوں کی کم سے کم اجرت تین ہزار ریال سے بڑھا کر چار ہزار ریال کرنے کا اعلان کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے بدھ کو سعودی شہریوں کی کم سے کم اجرت میں 33 فی

صد اضافے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ اس کا پانچ ماہ کے بعد اطلاق ہوگا۔تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ فیصلہ کس تاریخ سے نافذ العمل ہوگا۔وزارت نے واضح کیا کہ اگر کسی کمپنی کا ملازم کوئی سعودی شہری نئی وضع کردہ کم سے کم اجرت سے بھی کم ماہانہ تن خواہ وصول پائے گا تو اس کو کمپنی کے سعودی شہریوں کے لیے مختص ملازمتوں کے کوٹا میں شمار نہیں کیا جائے گا۔انہوںنے مزید کہا کہ اگر کوئی سعودی ملازم یا ورکر تین ہزار اور چار ہزار ریال کے درمیان ماہانہ تن خواہ وصول کرے گا تو اس کو کمپنی کا نصف ملازم شمار کیا جائے گا۔وزارت کے اس نئے فیصلے کا جزوقتی کام یا ملازمت کرنے والے سعودی طلبہ پر بھی اطلاق ہوگا یا جو لوگ اپنی دیگرمصروفیات کے مطابق من پسند اوقات میں اجرت پر کام کرتے ہیں تو ان پر بھی اس نئے ضابطے کا اطلاق ہوگا۔اس فیصلے کا مقصد زیادہ سے زیادہ سعودی شہریوں کو نجی شعبے میں کام کی جانب راغب کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی ملازمت کے حقوق کو یقینی بنانا ہے۔وزارت برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے مزدور کی کم سے کم اجرت بڑھانے کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب سعودی عرب دنیا کی بیس بڑی معیشتوں پر مشتمل گروپ 20 کے سربراہ اجلاس کی میزبانی کررہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…