ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ملکی ایئر پورٹس پر سیلف چیک اِن سسٹم کو ایک سال  ہو گیا، تاحال غیر فعال،بڑی نااہلی سامنے آگئی

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کرا چی(این این آئی) ملکی ایئر پورٹس پر مسافروں کی سہولت کے جدید سیلف چیک اِن سسٹم کو ایک سال ہو گیا جو تاحال غیر فعال ہے۔تفصیلات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک سال قبل جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ سمیت ملک کے 6 ایئر پورٹس پر 15 سے زائد جدید مشینیں مسافروں کی سہولت کے لیے نصب کی تھیں۔تاہم ایئر لائنز کی جانب سے جدید سیلف چیک اِن سسٹم پر

اپنا سافٹ ویئر انسٹال نہیں کیا جا سکا ہے، سافٹ ویئر انسٹال نہ ہونے کی وجہ سے اندرون و بیرون ملک جانے والے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس ضمن میںکراچی ایئر پورٹ کے منیجر نے بتایاکہ تمام ایئر لائنوں کو متعدد بار خطوط لکھے جا چکے ہیں کہ وہ اپنے سافٹ ویئر کو اپ گریڈ کر لیں، صرف پی آئی اے نے سیلف چیک اِن سسٹم پر اپنا سافٹ ویئر انسٹال کر نے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ جدید مشینوں کے نصب ہونے سے مسافر اپنا بورڈنگ پاس خود کار طریقے سے حاصل کر سکیں گے۔سی اے اے کے مطابق جدید چیک ان سسٹم سے ہینڈ کیری بیگجز والے مسافروں کو یہ سہولت میسر ہوگی، یہ سسٹم فعال ہو نے سے سی اے اے کو زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔یاد رہے کہ جولائی میں ایئر پورٹ پر چیک ان اور بورڈنگ سسٹم کو آپریٹ کرنے والی کنٹریکٹر کمپنی کو وارننگ بھی دی گئی تھی کہ فوری طور پر سسٹم کو فعال کرے۔ سی اے اے کی جانب سے یہ سسٹم گزشتہ برس نومبر میں متعارف کرایا گیا تھا، اور کراچی، اسلام آباد ایئرپورٹس سمیت چھ ایئرپورٹس پر اس کی مشینیں نصب کی گئی تھیں، اور ایئرلائنز کو CUPPS سسٹم کو استعمال کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔جن ایئرپورٹس پر مشینیں نصب کی گئی تھیں ان میں کراچی، اسلام آباد، لاہور، پشاور، ملتان اور فیصل آباد کے ایئرپورٹس شامل تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…