منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سکولوں و تعلیمی اداروں میں قبل ازقت موسم سرما کی تعطیلات کرنالازمی قرار دیدیا گیا‎

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور(آن لائن ) سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا پھیلاؤ روکنے کیلئے تعلیمی اداروں میں قبل ازقت موسم سرما کی تعطیلات کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ سکولوں کو غیرمعینہ مدت کیلئے بند کردیا جائے صرف این سی اوسی کی سفارشات پر عمل کیا جائے اور موسم سرماکی چھٹیاں قبل ازوقت دے کر

ان میں تھوڑا اضافہ کردیا جائے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این سی اوسی نے کورونا پھیلاؤ روکنے کیلئے بالکل ٹھیک سفارشات کی ہیں ان سفارشات میں پرہجوم جگہوں پرجانا، ماسک، سکولوں اور اجتماعات کے حوالے سے شامل ہیں۔ ہمارے پاس کورونا کو ڈیل کرنے کا تجربہ وسائل اور ماہرین بھی موجود ہیں،میں دوچیزیں بتانا چاہتا ہوں ، جس میں پہلا لفظ یہ ہے کہ ہمیں این سی اوسی کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کرنا چاہیے، ان سفارشات پر پوری دلجمعی کے ساتھ عمل کرنا ہوگا۔کورونا پچھلے دس ہفتے سے بڑھ رہا ہے لیکن ہم سست ہیں، میرے خیال میں رابطوں کا فقدان ہے، دوسرا لفظ رابطوں کا فقدا ن ہے۔ رابطوں کے فقدان سے میری مراد یہ ہے کہ خود اسد عمر آخری این سی اوسی کی میٹنگ میں کہہ چکے ہیں کہ ہم نے جو سفارشات رکھی ہیں، ان پر صوبوں کا اتفاق نہیں ہے، اس وجہ سے پورے ملک میں ہم عملدرآمد نہیں کروا پارہے۔ایک مرحلہ تھا کہ ٹرانسپورٹ، دکانوں، کارخانوں میں جو لوگ ایس اوپیز پر عمل نہیں کررہے تھے ان کو جرمانے کیے جارہے تھے، لیکن اب وہ گرفت نظر نہیں آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم نے خود ماسک پہننا شروع کیا تھا تو اس کا بڑا اثر ہوا تھا کہ پورے ملک میں لوگ ماسک پہن رہے تھے۔ اگر ہم نے ان کو فوری اقدامات کرکے نہ روکا تو یورپ کی طرح ہمیں بھی مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ سکولوں کو بند نہ کرنے سے فرق پڑے گا، کیونکہ سکولوں میں کیسز آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ سکولوں کو غیرمعینہ مدت کیلئے بند کردیا جائے صرف این سی اوسی کی سفارشات پر عمل کیا جائے اور موسم سرماکی چھٹیاں قبل ازوقت دے کر ان میں تھوڑا اضافہ کردیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…