جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

یاسر عرفات کو 1982 میں شہید کرنے کی اسرائیلی سازش کا انکشاف

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی )اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے  1982 بیروت کے ایک اسٹیڈیم میں بم حملے میں یاسرعرفات کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم بعد میں اس منصوبے کو ملتوی کر دیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یاسر عرفات کی 16 ویں برسی کے موقعے پر جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ

اسرائیلی حکومت نے فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کو جان سے مارنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ یاسرعرفات 11 نومبر 2004 کو فرانس کے ایک اسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔ ان کی موت پراسرار انداز میں ہوئی اور کہا جاتا ہے کہ انہیں اسرائیلی ریاست کی طرف سے زہر دیا گیا تھا۔عبرانی اخبار کی رپورٹ کے مطابق  حکومت نے سنہ 1982 میں بیروت میں ایک اسٹیڈیم میں ہونے والی تقریب میں بم دھماکہ کرنے کا منصوبہ بنایا تاہم بعد ازاں اس منصوبے پرعمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اس سازش میں یاسرعرفات کے ساتھ ساتھ تنظیم آزادی فلسطین کے رہ نما ابو جہاد کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔اخباری رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی طرف سے اس منصوبے کو اولمپک کا نام دیا گیا تاہم اس پرعمل درآمد نہیں کیا گیا۔اخباری رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی ایجنٹوں اور منصوبہ سازوں نے اسٹیڈیم کی سیٹوں میں بارود نصب کیا تھا۔ اس کے علاوہ تین بمبار کاریں بھی تیار کی گئی تھیں۔ تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔اخباری رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت پہلے اسٹیڈیم کے اندر دھماکہ کرنا تھا۔ بعد ازاں بھگدڑ مچنے کے ساتھ ہی بمبار گاڑیوں کے ذریعے دھماکے کرنے کی اسکیم تیار کی گئی تھی۔عبرانی اخبار کے مطابق شمالی علاقوں کے کمانڈر جنرل ایل یانوش بن گال نے ایجنٹوں کو ہدایت کی دی کہ سب کو قتل کر دیں۔ یہ ایک واضح پیغام تھا کہ اسرائیل تحریک فتح کی قیادت کو شہید کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…