جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

ڈالر سستا اور سونا مہنگا ہو گیا ڈالر کی قیمت 6ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )رواں کاروباری ہفتے کے آخری روز بھی امریکی ڈالر کی قدر میںتسلسل جاری رہا ، روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید سستا ہو کر 6ماہ کی کم ترین سطح 159 روپے تک آگیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید 37 پیسے کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کے بعد ایک ڈالر کی قیمت 159 روپے 9 پیسے تک پہنچ گئی ہے،

ڈالر کی گرتی قیمت کے بعد رواں ہفتے امریکی ڈالر کی قدر 1 روپیہ 16 پیسے کم ہوئی ہے۔جبکہ مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونامزید1400روپے مہنگا ہوکر ایک لاکھ 16ہزاروپے فی تولہ ہوگیا۔آل سندھ صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں گزشتہ روز سونے کی فی اونس قیمت40 ڈالرکے اضافے سے 1958ڈالر ہوگئی جس کے زیر اثر مقامی سطح پر سونے کی قیمت 1400 روپے کے اضافے سے1لاکھ16ہزارروپے ہوگئی جب کہ دس گرام سونے کی قیمت 1200روپے کے اضافے سے99ہزار451روپے ہوگئی۔ چاندی کی فی تولہ قیمت30روپے کے اضافے سے1250روپے ہو گیا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات میں چاہے ڈونلڈ ٹرمپ جیتیں یا جو بائیڈن لیکن ایک عرصے سے مندی کا شکار ڈالر کی صورتحال بہتر ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مارچ میں ڈالر بلندی کی سطح پر پہنچ گیا تھا لیکن اس وقتوہ مذکورہ  اعشاریے سے 9 پوائنٹس نیچے ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ 2017 میں اپنی بدترین سطح تک دوبارہ پہنچ جائے گا جس کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ آنے والے کئی سالوں تک ڈالر کی سطح نیچے ہی رہے گی۔ماہرین اور سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ جو بائیڈن کی فتح سے

کرنسی مزید کمزور ہو گی کیونکہ وہ ممکنہ طور پر ایسی پالیسیاں متعار ف کرائیں گے جس سے ڈالر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔اسی طرح کچھ کا ماننا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ مزید 4سال برسر اقتدار رہتے ہیں تو وہ ڈالر کے لیے صحیح اور واضح سمت کا تعین نہیں کر سکیں گے، البتہ ان کی چین مخالف حکمت عملی سے ڈالر کی عالمی منڈی میں مضبوطی اور بہتری کا امکان موجود ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی نیوز ایجنسی کے پول کے مطابق ماہرین نے کہا تھا کہ ایک سال میں ڈالر کے مقابلے میں یورو کے 1.21ڈالر اوپر جانے کا امکان ہے جو موجودہ مارکیٹ کی سطح سے 4فیصد زیادہ ہے۔یہ چند محرکات ہیں جو طویل دورانیے میں ڈالر کی قدروقیمت پر اثرانداز ہوں گے۔ایک ماہر نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ اثر کورونا کی وجہ سے کم کی گئی شرح سود سے پڑا، یہ ڈالر کے لیے انتہائی منفی ہے اور اس کی اصل قدر سے کہیں دور ہے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…