اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر سستا اور سونا مہنگا ہو گیا ڈالر کی قیمت 6ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )رواں کاروباری ہفتے کے آخری روز بھی امریکی ڈالر کی قدر میںتسلسل جاری رہا ، روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید سستا ہو کر 6ماہ کی کم ترین سطح 159 روپے تک آگیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید 37 پیسے کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کے بعد ایک ڈالر کی قیمت 159 روپے 9 پیسے تک پہنچ گئی ہے،

ڈالر کی گرتی قیمت کے بعد رواں ہفتے امریکی ڈالر کی قدر 1 روپیہ 16 پیسے کم ہوئی ہے۔جبکہ مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونامزید1400روپے مہنگا ہوکر ایک لاکھ 16ہزاروپے فی تولہ ہوگیا۔آل سندھ صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں گزشتہ روز سونے کی فی اونس قیمت40 ڈالرکے اضافے سے 1958ڈالر ہوگئی جس کے زیر اثر مقامی سطح پر سونے کی قیمت 1400 روپے کے اضافے سے1لاکھ16ہزارروپے ہوگئی جب کہ دس گرام سونے کی قیمت 1200روپے کے اضافے سے99ہزار451روپے ہوگئی۔ چاندی کی فی تولہ قیمت30روپے کے اضافے سے1250روپے ہو گیا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات میں چاہے ڈونلڈ ٹرمپ جیتیں یا جو بائیڈن لیکن ایک عرصے سے مندی کا شکار ڈالر کی صورتحال بہتر ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مارچ میں ڈالر بلندی کی سطح پر پہنچ گیا تھا لیکن اس وقتوہ مذکورہ  اعشاریے سے 9 پوائنٹس نیچے ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ 2017 میں اپنی بدترین سطح تک دوبارہ پہنچ جائے گا جس کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ آنے والے کئی سالوں تک ڈالر کی سطح نیچے ہی رہے گی۔ماہرین اور سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ جو بائیڈن کی فتح سے

کرنسی مزید کمزور ہو گی کیونکہ وہ ممکنہ طور پر ایسی پالیسیاں متعار ف کرائیں گے جس سے ڈالر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔اسی طرح کچھ کا ماننا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ مزید 4سال برسر اقتدار رہتے ہیں تو وہ ڈالر کے لیے صحیح اور واضح سمت کا تعین نہیں کر سکیں گے، البتہ ان کی چین مخالف حکمت عملی سے ڈالر کی عالمی منڈی میں مضبوطی اور بہتری کا امکان موجود ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی نیوز ایجنسی کے پول کے مطابق ماہرین نے کہا تھا کہ ایک سال میں ڈالر کے مقابلے میں یورو کے 1.21ڈالر اوپر جانے کا امکان ہے جو موجودہ مارکیٹ کی سطح سے 4فیصد زیادہ ہے۔یہ چند محرکات ہیں جو طویل دورانیے میں ڈالر کی قدروقیمت پر اثرانداز ہوں گے۔ایک ماہر نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ اثر کورونا کی وجہ سے کم کی گئی شرح سود سے پڑا، یہ ڈالر کے لیے انتہائی منفی ہے اور اس کی اصل قدر سے کہیں دور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…