بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

بینکاری لین دین پر ٹیکس سے تجارتی ادائیگیاں متاثر، کاروبار سست روی کا شکار

datetime 5  جولائی  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے چیک سمیت ہرقسم کے بینکاری لین دین پر 0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے بعد تھوک وخوردہ مارکیٹوں میں کاروبار کرنے والے تاجر شدید متاثر ہوئے ہیں۔
بینکوں کے ذریعے لین دین میں کٹوتیوں کے بعد بھاری مالیت کے کئی سودے منسوخ ہوگئے جس کے بعد تاجر بڑی مالیت کے سودوں کے حوالے سے بینکوں کے ذریعے لین دین میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں اور نقد میں خریدوفروخت کا رجحان پھر سے فروغ پانے لگا ہے،بینکوں کے ذریعے لین دین متاثر ہونے سے کاروباری ادائیگیاں اور کاروباری عمل سست روی کا شکار ہو گیا ہے، بیوپاری ایک ماہ میں ادائیگیوں کے وعدے کوآئندہ 6 ماہ میں چھوٹی چھوٹی نقد اقساط میں ادائیگی کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹیکس درحقیقت ایک نہیں بلکہ ٹیکس در ٹیکس ہے جو کسی بھی کراس چیک کے آخری ٹرانزیکشن تک عائد ہوتا رہے گا اور ایک کراس چیک کئی مرتبہ نان فائلرز سے 0.6 فیصد کے تناسب سے ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتیاں کرتا رہے گا۔ حکومت مذکورہ بجٹ اقدام کے ذریعے اگرچہ سہل انداز میں ریونیو کے حجم میں اضافے کی خواہاں ہے لیکن تجارتی منڈیوں میں اس اقدام سے لین دین کا سرکل بری متاثر ہوگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند روز سے بینکنگ ٹرانزیکشنز کم ہوگئی ہیں اور90 فیصد کاروباری لین دین نقد یا چھوٹے مالیت کے چیکوں کے ذریعے ہونے لگا ہے۔
تھوک مارکیٹوں کے بیوپاریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب تاجربرادری میں مکمل اعتماد رکھنے والے مالی طور پر مستحکم بڑے بیوپاری یا سرمایہ کار متوازی بینکاری نظام انتہائی کامیابی کے ساتھ متعارف کراسکتے ہیں جبکہ ہنڈی کی طرز پرمضبوط وقابل اعتماد پارٹیوں کی جانب سے بڑی رقوم کے ٹوکن بھی متعارف ہونے کا خدشہ ہے۔ اس ضمن میں جوڑیا بازار ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جعفرکوڑیا نے ”ایکسپریس“ کو بتایا کہ حکومت خود اپنے ہاتھوں سے ملک کے بینکاری نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی کوششیں کررہی ہے اور اب تو پاکستان کے بینکنگ سسٹم میں سیکریسی ایکٹ بھی سال2003 سے ختم کردیا گیا ہے۔
دنیا بھر میں بینکوں کا کام مالیاتی ٹرانزیکشنز کرنا ہے لیکن پاکستان میں اب بینکوں کو بھی ٹیکس کلکٹر بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے نان ٹیکس فائلرز کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر0.6 فیصد ایڈوانس ٹیکس کی کٹوتی پر یہ موقف ظاہر کیاکہ درحقیقت یہ ٹیکس نان فائلرز کے لیے ایمنسٹی اسکیم کے طور پر ابھرکر سامنے آئے گا جس کے تحت نان فائلرز اپنے رقم کو ٹیکس سے چھپانے اور عوام ادائیگی کی نیت سے اپنی بینکنگ ٹرانزیکشن پر معمولی ٹیکس دینا زیادہ پسند کریں گے۔
بینکوں میں صارفین کے ڈپازٹ کے حجم میں کمی کا رحجان غالب ہوجائے گاکیونکہ لوگ اپنی نقد رقوم کے عوض سونا ودیگر جائیدادوں کی خریداری پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے تاکہ وہ ٹیکسوں کی ادائیگیوں سے بچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ریٹرن فائلرزکی حوصلہ شکنی ہوگی جو اصل ٹیکس دہندگان ہیں اور نان فائلرز کی بہ نسبت اپنے ریکارڈ کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے مکمل رکھتے ہیں اور ٹیکس مشیر تنخواہوں پر رکھتے ہیں اور اس کے باوجود وہ ہمیشہ ٹیکس حکام کی ستم ظریفی کا شکار ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…