جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ اسرائیل اتفاق، متحدہ عرب امارات کو خطرناک جنگی ہتھیاردینے کی اجازت

datetime 25  اکتوبر‬‮  2020 |

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی )اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع بینی گانٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل متحدہ عرب امارات کو امریکا کے مخصوص ہتھیارمتحدہ عرب امارات کو فروخت کرنے کی مخالفت نہیں کرے گا۔ ان ہتھیاروں میں امریکا کے ایف 35طیارے بھی شامل ہیں جو اسرائیل کے تحفظات کی وجہ سے آج تک ابوظبی کو فروخت نہیں کیے جاسکے۔میڈیارپورٹس کے

مطابق حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات کو ایف 35 کی فروخت پر بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔واشنگٹن سے اسرائیل واپسی کے بعد وزیر دفاع گینٹز نے وزیر اعظم نیتن یاہو سے اسرائیلی فوج کی برتری کو یقینی بنانے کے بارے میں اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ معاہدے کے بارے میں بات کی۔یہ معاہدہ ایک طویل بات چیت کے بعد ہوا۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے وزیر دفاع گینٹز کے ایک ماہ قبل واشنگٹن کے دورے کے بعد امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان)کے ساتھ معاہدہ کرنا شروع کیا تھا۔وزیر دفاع گانٹز نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت سے اسلحے کے جدید نظاموں کی خریداری کے طویل مدتی منصوبوں پر عمل درآمد ہوگا جس سے اسرائیل کی فوجی صلاحیتوں کو ٹھوس انداز میں بہتر بنایا جاسکے گا۔ اسرائیل کی سلامتی اور علاقائی فوجی برتری کی ضمانت دی جاسکے گی اور آنے والے عشروں میں اسرائیلی فوجی بالا دستی کو برقرار رکھا جاسکے گا۔اس دورے کے دوران امریکی سرکاری ایجنسیوں نے اسرائیلی وزیر دفاع کو آگاہ کیا کہ امریکی انتظامیہ متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کے کچھ نظام فروخت کرنے کے اپنے ارادے سے کانگریس کو جلد مطلع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع گینٹز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکا اسرائیلی فوجی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے اور اپنی دفاعی بالا تری کو برقرار رکھتے ہوئے امارات کو ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…