بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سٹیٹ بینک نے حکومت کابھانڈاپھوڑڈالا

datetime 4  جولائی  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)سٹیٹ بینک نے حکومت کابھانڈاپھوڑڈالا, حکومت اپنے گزشتہ سال کے رجحان کو جاری رکھتے ہوئے اس مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی، ستمبر) میں بینکوں کے نظام کے ذریعے 1.35 ٹریلین روپے قرض لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رپورٹ دی ہے کہ حکومت نے اس سہ ماہی کے دوران پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز ( پی آئی بی ایس) کو 200 ارب روپے تک محدود کرکے اس کی فروخت کو گھٹا دیا ہے۔پی آئی بی ایس پچھلے دو سالوں کے دوران بینکوں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش بن گیا تھا، اس لیے کہ وہ اس میں طویل مدت تک کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرسکتے تھے، یہ خطرات سے پاک تھا، اور انتہائی نرم شرائط کے ساتھ تھا۔اسٹیٹ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینکوں اور بینکوں کے علاوہ مالیاتی اداروں کی پاکستان انوسمنٹ بانڈز میں کل سرمایہ کاری 31 مئی 2015ء تک بالترتیب 2.9 ٹریلین اور 1.2 ٹریلین کی سطح پر موجود ہے۔ اس میں سے زیادہ تر سرمایہ کاری پچھلے دو سالوں کے دوران کی گئی تھی۔اسٹیٹ بینک کی نیلامی کے کلینڈر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے اس مہینے کے وسط میں 100 ارب روپے اور پی آئی بی ایس کے ذریعے اگلے دو مہینے کے دوران بینکوں اور سرمایہ کاری کے دیگر اداروں سے پچاس پچاس ارب روپے حاصل کرے گی۔اس کے علاوہ اس سہ ماہی کے دوران مارکیٹ ٹریژری بلز کی فروخت کے ذریعے 1.15 ٹریلین روپے کے قرضے حاصل کرے گی۔حکومت نے پچھلے دو مالی سالوں کے دوران خاص طور پر بینکوں کے قرضوں پر انحصار کیا ہے، اور یہ معیشت کے اوپر بوجھ بن گیا ہے۔واضح رہے کہ حکومت 2014-15ء میں اپنے ریونیو کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اس نے بجٹ کے فرق کو پورا کرنے کے لیے بھاری قرضے حاصل کیے۔اسٹیٹ بینک کی ایک اور رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے مالی سال (جون کے وسط تک) کے دوران حکومت کے لیے گئے قرضے کی حد ایک ٹریلین روپے کے قریب پہنچ گئی تھی، اور یہ مالی سال 2014ء کے مقابلے میں کافی بڑی رقم ہے۔تاہم مالی خسارے کو ایک حد میں رکھنے کی آئی ایم ایف کی اجازت کےساتھ اور اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے بھاری قرضے لینے کے باوجود حکومت یہ دونوں اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے۔جولائی ستمبر کے لیے قرضے حاصل کرنے کے ارادے سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ حکومت دیگر ذرائع کے قرضوں سےپر ہی انحصار کرتی رہے گی، جیسا کہ اس نے پچھلے دو سالوں کے دوران کیا ہے۔حکومتی کاغذات میں بینکوں نے 5 ٹریلین روپے سے زیادہ کی جبکہ بینکوں کے علاوہ سرمایہ کاری کے اداروں نے 31 مئی تک 1.6 ٹریلین روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ان ملکی قرضوں کے ساتھ ساتھ حکومت نے اس سال کے بجٹ کے خسارے کو دور کرنے کے لیے غیرملکی وسائل سے 896 ارب روپے کا بندوبست کرنے منصوبہ بنایا ہے۔مالی سال 2015ء کے لیے مالی خسارے کے ہدف کے حصول میں ناکامی کے ساتھ حکومت کو امید ہے کہ وہ مالی سال 2016ء میں جی ڈی پی کو 4 فیصد تک برقرار رکھے گی۔تاہم اس پہلی سہ ماہی کے دوران قرضوں کے حصول کا رجحان ظاہر کرتا ہے کہ حکومت نے پچھلے دو مالی سالوں کے دوران اپنائے گئے نکتہ نظر کو اختیار کیے رکھے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…