اسلام آباد(نیوزڈیسک )اسرائیل میں تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بچوں کا مختلف قسم کی بو سونگھنے کا طریقہ آٹزم یا خود فکری جیسی بیماری کی بنیاد کا ٹیسٹ ہو سکتا ہے۔لوگ گلاب کے گلدستے کی دل کش خوشبو سونگھنے میں گلی سڑی مچھلی کی بدبو کی نسبت زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔جریدے کرنٹ بائیولوجی میں شائع کی جانے والی ایک تحقیق میں دکھایا گیا ہے کہ 36 بچوں پر کیے گئے تجربات کے نتائج میں آٹزم کا شکار بچے خوشبو اور بدبو میں فرق محسوس نہیں کر سکتے۔ وہ عام لوگوں کے برعکس دونوں قسم کی بوں پر یکساں وقت صرف کرتے ہیں۔نیشنل آٹسٹک سوسائٹی نے کہا ہے کہ بو بالآخر آٹزم کو جانچنے کا ایک اضافی آلہ ثابت ہو سکتی ہے۔دنیا بھر میں ہر 160 بچوں میں سے ایک بچہ آٹزم کا شکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا رویہ، سماجی بات چیت اور دوسروں سے رابطوں کے طریقے متاثر ہوتے ہیں۔اس کا صرف اس وقت پتہ چلتا ہے جب بچہ کم از کم دو سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے۔ویزمان انسٹیٹیوٹ آف سائنسز میں بچوں نے دس منٹ کے تجرباتی ٹرائل میں حصہ لیا۔سرخ ٹیوب میں خوشبو یا بدبو چھوڑی گئی جبکہ سبز ٹیوب سے سانس لینے کے طریقے میں تبدیلی کو ریکارڈ کیا گیابچوں کی ناک میں ایک سرخ ٹیوب کی مدد سے خوشبو یا بدبو چھوڑی گئی جبکہ سبز ٹیوب سے سانس لینے طریقے میں تبدیلی کو ریکارڈ کیا گیا۔تحقیق کاروں میں سے ایک پی ایچ ڈی کی طالبہ لائرن روزینکرانٹز نے کہا کہ عموما بچے بو کے مطابق اپنے سونگھنے کے طریقے اور وقت میں تبدیلی لاتے ہیں۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ آٹزم کا شکار بچوں میں ایسی کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ انھوں نے شیمپو کو ابھی اتنی ہی دیر سونگھا جتنا کہ گلی سڑی مچھلی کو۔یہ بات بہت نمایاں اور حیران کن ہے۔ٹیم نے ایک کمپیوٹر پروگرام بنایا ہے جو بچوں کے گروہ میں 81 فیصد درستگی کے ساتھ آٹزم کی تشخیص کر سکتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہبچوں میں آٹزم کی علامات جتنی شدید ہوتی ہیں اتنا ہی زیادہ وقت وہ بدبو کو سونگھنے میں لیتے ہیں۔جتنی جلدی آٹزم کی تشخیص ہو گی، اتنی ہی جلدی ان بچوں کو رویے اور تعلیم میں مدد دی جا سکے گی۔ویزمان انسٹیٹیوٹ آف سائنس کی ٹیم کا کہنا ہے کہ سونگھنے کے ٹیسٹ کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس کا بچے کے باتیں کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے سو یہ ٹیسٹ اوائل عمر میں بھی کیا جا سکتا ہے۔روزینکرانٹز نے کہا کہ لیکن اس تشخیصی ٹیسٹ کو استعمال کرنے سے پہلے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ عام آبادی میں کس عمر میں بچوں میں سونگھنے کا ردِ عمل پیدا ہوتا ہے۔کیا آپ یہ ساتھ لے کر پیدا ہوئے ہیں، یا یہ ردِ عمل بعد میں کسی وقت پیدا ہوتا ہے؟ ابھی تک کسی نے اس بات پر توجہ نہیں کی۔میرے خیال میں ہمارے پاس آغاز کے لیے ایک اچھی جگہ ہے لیکن ابھی ایک لمبا راستہ باقی ہے۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بو کا سماجی میل جول میں ایک اہم کردار ہے اور اس سے آٹزم کا تعلق ہو سکتا ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
امریکی ویزا کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے بڑا اعلان
-
وزیراعظم شہباز شریف کے آموں کے تحفے پر ہنگری کے وزیراعظم کا دلچسپ پیغام
-
پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)
-
کون سا پاکستانی شہری اب ملک میں داخل نہیں ہو سکے گا؟ ہوائی اڈوں کو ہدایات جاری
-
بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
-
لاہور میں فیکٹری مالک کو انسپکشن کیلئے آنے اسسٹنٹ کمشنر سے تعارف پوچھنا مہنگا پڑ گیا
-
5 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازمین کے لئے اہم خبر آگئی
-
وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان، نئے نام زیر غور
-
750 روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئے خوشخبری
-
سعودی عرب کا نیا “پیکیج ویزا” متعارف، پاکستان سمیت 7 ممالک کے شہری مستفید ہوں گے
-
سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی،فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
-
فیصل آباد میں شوہر نے مبینہ طور پر قرض کی رقم کے بدلے اپنی بیوی کو دوست کے ہاتھوں فروخت کر دیا
-
سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے بت مسمار کر کے “غلطی” کی ، افغان وزیر کا بیان، اسلامی...



















































