پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

کیا ملزمان پولیس اور ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں؟چیف جسٹس گلزار احمد شدید برہم

datetime 12  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ پولیس کے بڑے بڑے افسر ملزمان کے سامنے بے بس ہیں۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں ام رباب چانڈیو کے

اہلخانہ کے قتل کے ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم شیخ عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے مفرور ملزمان کی عدم گرفتاری پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم شیخ کی سخت سرزنش کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ خود کبھی ملزمان کو گرفتار کرنے گئے ہیں؟ اس پر نعیم شیخ نے بتایا کہ جگہ دیکھی ہوئی ہے کبھی ملزمان کے پیچھے نہیں گیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کے پیچھے نہ جانے اور دفتر بیٹھنے پر آپ سے نمٹتے ہیں، کیا ملزمان پولیس اور ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں؟ کیا حیدرآباد پولیس کی ساری نفری بیکار ہے؟ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پولیس افسران دفاتر سے باہر ہی نہیں نکلتے اور پولیس کے بڑے بڑے افسر ملزمان کے سامنے بے بس ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…